Saturday, April 4, 2020

کوئی جان سے گیا گزر. مشی شیخ کےقلم سے

0 comments

کوئی جان سے گیا گزر



کوئی جان سے گیا گزر
از  مشی شیخ
سارا گھر بکھرا پڑا تھا.... صائم کو آفس بھیج کر میں گھر سمیٹ رہی تھی ساتھ ہی ساتھ کام والی کو کوس رہی تھی، ہر دوسرے روز چھٹی کر لیتی تھی.... گھر کے کام زیادہ نہ تھے پر چھوٹے چھوٹے جڑواں بچوں کے ساتھ گھر کی صفائی ستھرائی... کپڑے برتن کچن.... کرنا ناممکن تھا....
پر ہر دوسرے تیسرے روز مجھے سب کرنا پڑتا.... شام تک اتنا تھک جاتی تھی کہ مجھے بخار آ لیتا تھا.
پر ماسی نذیراں کو میری کیا پرواہ..... اسکی اپنی سو مجبوریاں.... جو وہ چھٹی کے بعد آ کر رو رو کر سنایا کرتی تھی.
میں جو اسکی تنخواہ کاٹنے کا پکا ارادہ کئے بیٹھی ہوتی تھی، اسکے آنسو دیکھ کر پوری تنخواہ پکڑا دیتی، آدھا ماہ کام بھی خود کرتی اور ترس بھی کھاتی...
بچوں کو فیڈر دے کر بمشکل سلایا اور کچن کا رخ کیا.
جلدی سے ہنڈیا بنا لوں... باقی کام زیادہ ضروری نہیں... میں نے دکھتی کمر پہ ہاتھ رکھ کر سوچا.
ابھی چھری اور پیاز ہاتھ میں ہی لئے تھے کہ بیل بج اٹھی. دل میں امید کی کرن جاگی کہ شاید ماسی آ گئی ہو....
گیٹ کھولا تو سامنے دو اجنبی خواتین کھڑی تھیں، اک ادھیڑ عمر اور دوسری بیس بائیس سال کی لڑکی اسکی گود میں چھ ماہ کی بچی تھی.
جی کون.... میں نے پوچھا.
بیٹی میں قریبی گاؤں سے آئی ہوں، یہ میری بیٹی ہے، اسے کام پہ رکھوانا ہے.... دن رات رہے گی آپ کے پاس.... میں مہینے بعد آ کر مل جایا کروں گی.....
بڑی عمر کی عورت نے تفصیل سے اپنا مدعا بیان کیا.
نہیں مجھے نہیں رکھنا.... میرے پاس ہے کام والی... میں نے جھٹ گیٹ بند کر ڈالا.
خوف آیا کہ جانے کون ہیں...حالات ویسے ہی بہت خراب ہیں.
طرح طرح کی وارداتیں ہو رہی ہیں.
اندر آ کر پھر سے کام کرنا شروع کر دیا، لہسن پیاز بنا کر ہنڈیا چولہے پہ چڑھائی، اور ساتھ میں ناشتے کے برتن دھونے شروع کر دیے.... ماسی کی آس میں رات کے برتن بھی رکھ چھوڑے تھے، وہ بھی دھونے پڑے.... ابھی برتن دھو کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ منے کے رونے کی آواز آ گئی.... چولہا بند کر کے کمرے میں چلی گئی.... اور اسے باہر لے آئی کہ اسکی آواز سے دوسرا بھی نہ اٹھ جائے....
بیل پھر سے بج اٹھی.
اب تو کوفت کے مارے برا حال ہونے لگا. پر دروازہ تو کھولنا تھا ناں سو منے کو گود میں لئے ہی باہر چلی گئی.
گیٹ پہ پھر وہی دو خواتین تھیں...
آپ سے کہہ تو دیا کہ نہیں رکھنی مجھے کام والی.... پھر کیوں بار بار تنگ کر رہی ہیں..... میں جھنجھلا گئی.
بیٹی میری بات تو سن لو.
وہ سامنے والی باجی میری جاننے والی ہیں، انہوں نے ہی بتایا کہ آپ کو بہت ضرورت ہے.... چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ آپ بہت مشکل وقت گزار رہی ہیں.... آپ کی کام والی بہت تنگ کرتی ہے....
باجی آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں.... میری بیٹی سارا دن آپ کی خدمت کرے گی.... آپ اک دم سکون میں آ جائیں گی.
اگر آپ کو ہماری طرف سے کوئی خوف ہے تو یہ لو ہمارا شناختی کارڈ.....
اس نے دو کارڈ میری طرف بڑھا دئیے.
میں نے تھام دئیے، کارڈ بالکل ٹھیک تھے.... دل کو تھوڑی تسلی ہوئی.
انہیں باہر برآمدے میں بٹھا کر میں اندر آ کر سامنے والی ہمسائی کو فون کرنے لگی.
باجی ہاجرہ آپ نے دو خواتین بھیجی ہیں میری طرف.... میں نے سوال کیا.
ہاں.... میرے پاس جو لڑکی ہے وہ اسکی بھانجی ہے، تین سال سے کام کر رہی ہے، اچھی لڑکی ہے،
میں نے سوچا چلو تمہاری مشکل بھی آسان ہو جائے اور اس غریب کا بھی بھلا ہو جائے.... دور گاؤں سے آئی ہے.
جوان بیٹی کو طلاق ہو گئی ہے، چھوٹی سی بیٹی ہے، اب پیٹ پالنے کے لیے گھر سے نکلی ہے، ماں باپ تو خود بہت غریب ہیں، بیٹی اور نواسی کو گھر بیٹھا کر نہیں کھلا سکتے. اور پھر ایسی نندوں کو بھابھیاں بھی تو قبول نہیں کرتی ناں.... اس لئے دن رات رہنا چاہتی یے.....
میری مانو تو رکھ لو اسے....
ہمممم ٹھیک ہے....... باجی کی تفصیلی گفتگو کے بعد اس نے ہامی بھر لی.
پھر صائم سے مشورہ کیا، انہوں نے کہا چند دن کام کروا کر دیکھ لو.... کوئی حرج نہیں.
میں نے انہیں اندر بلا لیا.
نام پتہ اور فون نمبر اپنے پاس محفوظ کر لیا، ایک تصویر اپنے موبائل میں لے لی....
وہ ہنس پڑی.... کر لو بیٹی ہر طرح سے تسلی کر لو تمہارا حق بنتا ہے....
میں تھوڑی حجل ہوئی.
خالہ جی حالات ہی ایسے ہیں، کرنا پڑتا ہے... میں نے اپنی شرمندگی مٹانا چاہی.
کیا نام ہے تمہارا... میں نے لڑکی سے پوچھا.
کنول..... اس نے مختصر جواب دیا.
تنخواہ میں ایک ہفتے بعد طے کروں گی.... کنول کا کام دیکھ کر، ہر طرح سے تسلی کر کے...
منظور ہے خالی جی..؟
میرے پوچھنے پر انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا.
کنول وہیں بیٹھی رہی اور خالہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی.
میں انہیں گیٹ تک چھوڑنے گئی.
بیٹی، کنول کو طلاق ہو گئی ہے.... میرے ہاں رہنے آئی تھی، بندے نے پیچھے سے کاغذ بھیج دئیے. بنا کوئی وجہ بتائے کراچی چلا گیا ہے.
کنول اس بات کو نہیں مان رہی.... کہتی ہے وہ مجھے چھوڑ ہی نہیں سکتا آپ لوگ جھوٹ بولتے ہو، آپ سب میرے اور اسکے پیار سے جلتے ہو اس لئے ایسے کر رہے ہو..... دراصل دونوں کی محبت کی شادی تھی.
کنول اب بہت پریشان رہنے لگی تھی گم سم سی.... سوچا کام کاج کرے گی تو مصروف رہے گی حالت بہتر ہو جائے گی، اور بچی کا خرچہ کرنے کے بھی قابل ہو جائے گی.
بیٹی آپ اس سے کوئی ایسا ویسا سوال نہ کرنا، مہربانی ہوگی.
اس نے التجا کی.
نہیں کروں گی خالہ جی... آپ بے فکر رہیں. میں نے اسے تسلی دے کر رخصت کیا.
اندر آئی تو منا اور کنول کی بیٹی بیٹھے کھیل رہے تھے اور وہ کچن میں کھڑی پیاز کاٹ رہی تھی.
کھانا بنا لیتی ہو،
میں نے ایسے ہی پوچھ لیا.
جی باجی سب بنا لیتی ہوں، شاہد کو میرے ہاتھ کا کھانا بہت پسند ہے، اب کراچی سے آئے گا تو کالی مرچ والا چکن بنا کر کھلاؤں گی.... اس نے مسکرا کر کہا.
اچھا چلو آج مجھے بھی کالی مرچ والا چکن بنا کر کھلاؤ، مجھے بھی تو پتہ چلے، یہ کیا چیز ہے.....
میں نے فریزر سے چکن نکال کر اسے دیتے ہوئے کہا.
ٹھیک ہے باجی وہ چہکی.
وہ کام شروع کر چکی تھی اور میں بچوں کے گندے کپڑے اکٹھے کرنے لگی..
کچن سے بہت پیاری خوشبو آ رہی تھی اور میری بھوک جاگنے لگی تھی.
اتنے میں منا اور اسکی بیٹی رونے لگے.... میں نے منے کے لیے فیڈر بنایا.... اور ساتھ میں اسکی بیٹی کے لئے بھی بنا دیا.
وہ بہت مشکور ہوئی.
میں نے اسے پچھلی طرف بنے کمرے میں ٹھہرا دیا.
وہ بچی کو سلا کر پھر آ گئی.
ہانڈی کو دم دیا.
جی آپی اب کیا کرنا ہے... اس نے آ کر پوچھا.
باہر کپڑے رکھے ہیں، وہ دھو دو، بچوں کے کپڑے ہیں ہاتھ سے دھونے ہیں، مشین ہم کل لگائیں گے. سرف اور ٹب بھی وہیں رکھے ہیں، میں نے منے کو تھپکی دیتے ہوئے بتایا.
وہ سر ہلا کر چلی گئی.
منی کو میں نے سوئے سوئے ہی فیڈر دے دیا.
اب دونوں سو رہے تھے میں باہر نکل آئی کہ دیکھوں کنول کیا کر رہی ہے.
وہ کپڑے تار پہ ڈال رہی تھی.
بڑی پھرتیلی ہے، میں نے دل ہی دل میں کہا.
ایسا کرو اب میری اور اپنی روٹی بنا لو. بہت بھوک لگ رہی ہے.
جی ٹھیک ہے، وہ تابعداری سے کہہ کر کچن میں چلی گئی.
باجی آٹا یے..؟ اسنے کچن سے آواز لگائی.
ہاں تھوڑا سا ہے، ابھی روٹی بنا کر رات کے لیے گوندھ لینا.
میں نے وہیں سے جواب دیا.
وہ فریج سے آٹا لے کر روٹی بنانے لگی.
تھوڑی دیر بعد بہت سلیقےسے ٹرے میں کھانا رکھ کر لے آئی.
میں نے پہلا لقمہ منہ میں رکھا... واہ کنول یہ تو بہت مزے کا بنا ہے.... میں تعریف کئے بنا نہ رہ سکی.
اور آج کھانا کھانے کا واقعی مزا آیا تھا، ورنہ بچوں کی وجہ سے کبھی ٹھنڈا، کبھی آدھ ادھورا کھانا کھانے کو ملتا تھا، بنا لیتی تھی پر کھانے کا ہوش نہیں رہتا تھا.
جڑواں بچے پالنا آسان کام نہ تھا. ماں میری تھی نہیں جو ساتھ دیتی، اور ساس خود بہت لاغر تھی وہ بھی اس کڑے وقت میں میری مدد نہیں کر سکتی تھی.
اب کنول کے آ جانے سے مجھے حوصلہ سا ہونے لگا تھا.
رات صائم نے کھانا کھایا تو انہیں بھی بہت پسند آیا.
چلو اب ہانڈی روٹی سے جان چھوٹی میری، میں دل ہی دل میں خوش ہوئی.
ماسی نذیراں آئی تو ہاتھ جوڑ کر اسے فارغ کیا.
دو دن بعد اچانک صائم کو آفس کے کام سے دوسرے شہر جانا پڑ گیا.
تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کل واپس آ جاؤں گا، اب تو ویسے بھی کنول تمہارے پاس ہے تم اکیلی نہیں، ڈر نہیں لگے گا.
صائم تسلی دے کر نکل گئے.
میں کمرے میں بچوں کے ساتھ مصروف ہو گئی، پھر انکے لئے فیڈر بنانے کچن کی طرف آ رہی تھی کہ مجھے کنول کی باتیں کرنے کی آواز آئی....
حیرت ہوئی کس کے ساتھ باتیں کر رہی ہے.
تمہیں پتہ ہے، میں نے کتنا یاد کیا تمہیں....دن تو کام کاج میں کٹ جاتا ہے پر رات رو رو کٹتی ہے میری....
کیوں نہیں لے جاتے مجھے اپنے ساتھ کراچی... میں تم پہ بوجھ نہیں بنوں گی، یہاں بھی تو کام کر رہی ہوں وہاں بھی محنت کر لوں گی، دونوں مل کر اپنا گھر بنائیں گے، گڑیا بھی تمہارے بنا بہت اداس رہتی ہے، ہر وقت روتی ہے، بچی کے بتا تو نہیں سکتی کہ کیا مسئلہ ہے پر میں ماں ہوں، جان جاتی ہوں کہ وہ باپ کے لئے رو رہی ہے....
اسکی باتیں سن کر میری ٹانگیں کانپنے لگیں، لگتا ہے اس نے اپنے شوہر کو بلا لیا ہے، صائم کے جانے کی اسے خبر تھی، جانے اب اسکا کیا ارادہ ہے.......میرے ٹھنڈے پسینے چھوٹ گئے، اب کیا کرنا چاہیے، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا.... قدم تھے کہ وہیں جم چکے تھے، ہلنے کی سکت نہ رہی تھی.
میں دیوار کے ساتھ چپکی کھڑی کنول کی باتیں سن رہی تھی... مردانہ آواز کا انتظار کرتی رہی پر وہ نہ آئی. اب کنول کی آواز بھی نہیں آ رہی تھی... میں نے ہمت کر کے ذرا سا کچن میں جھانکا تو سامنے کنول کھڑی پیاز کاٹ رہی تھی، پاس ہی فرش پہ اسکی بیٹی بیٹھی ایک پیاز کا بغور معائنہ کر رہی تھی، ادھر ادھر دیکھا تو کوئی تیسرا وجود نہ تھا....
میں ہمت کر کے اندر داخل ہو گئی.
کس سے باتیں کر رہی ہو کنول.... میں نے اپنے خوف کو چھپاتے ہوئے لا پرواہی سے پوچھا.
شاہد سے بات کر رہی تھی آپی، اس نے ذرا سا مسکرا کر بتایا.
اچھا تو کہاں ہے شاہد، نظر نہیں آ رہا، میں نے مذید جانچ پڑتال کرنے کی کوشش کی.
وہ تو کراچی ہے آپی.... یہی تو اس سے کہہ رہی تھی کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو، دونوں مل کر کمائیں گے، بچی کی دیکھ بھال کریں گے، آخر اسے دونوں کے پیار کی ضرورت ہے، اپنا گھر بھی بنائیں گے.... اسکی آنکھیں چمک اٹھیں تھیں.
اچھا تو فون پہ بات کر رہی تھی کیا.... میں نے اگلا سوال کیا.
میرے اس سوال پہ اسکی آنکھوں میں جلتے دئیے بجھ گئے اور وہ سر جھکا کر پیاز کاٹنے لگی، کوئی جواب نہ دیا.
مجھے اس کا یہ انداز عجیب سا لگا بلکہ ڈر سا بھی محسوس ہوا.
میں فوراً اپنے کمرے میں آ بیٹھی. جسم میں خوف سے کپکپی سی ہونے لگی، جھٹ سے خالہ کا فون ملایا.
ابھی فون اٹھایا ہی گیا تھا کہ میں شروع ہو گئی.
خالہ تمہاری بیٹی پاگل ہے یا اس پہ آسیب ہے.... جانے کس سے باتیں کرتی رہتی ہے، ابھی کے ابھی پہنچو، لے جاؤ یہاں سے اپنی بیٹی کو، میرا اسکے ساتھ اک لمحہ بھی گزارا نہیں....
میری بات تو سنو بیٹی..... خالہ بار بار کہہ رہی تھیں....
نہیں سننا مجھے کچھ بھی... میں چیخی.
صرف ایک بار.... تمہیں رب کا واسطہ..... خالہ نے التجا کی تو میری بولتی بند ہو گئی.
دھی رانی... کنول پہ کوئی آسیب نہیں ہے، قسم لے لو.... بس تھوڑا دماغی مسئلہ ہو گیا ہے جب سے شاہد اسے چھوڑ گیا ہے، اسکی جدائی میں ایسی ہو گئی ہے، اسے کام کے لیے تمہارے ہاں بھی اس لئے چھوڑا کہ مصروف رہے گی تو شاہد کے ساتھ غائبانہ گفتگو نہیں کرے گی.... گھر میں تو ہر وقت باتیں کرتی رہتی تھی.... خالہ کی آواز رندھ گئی.
میرا دل بھی نرم پڑ گیا.... خالہ یہ بات تھی تو پہلے بتانا تھا ناں... میں شرمندہ سی ہوئی.
اچھا خالہ آپ پریشان نہ ہوں، میں کوشش کروں گی اسے تنہا نہ چھوڑوں.... پھر اسے ایسی باتیں کرنے کا وقت نہیں ملے گا.
میری بات سن کر خالہ مجھے دعائیں دینے لگیں.
پھر تو میں کوشش کرتی کہ اسکے پاس رہوں وہ مجھ سے باتیں کرے، اسے فضول باتیں کرنے کا موقع نہ ملے.
ایک دن وہ صبح ناشتے کے لیے کچن میں آئی، اسکی آنکھیں لال بھبھوکا ہو رہی تھی...
کیا ہوا تمہیں.... میں گبھرا سی گئی.
کچھ نہیں باجی بس ساری رات سو نہیں سکی... اس نے لاپرواہی سے کہا.
کیوں نہیں سوئی تم ساری رات.... میں نے تو تمہیں ٹائم سے سونے بھیج دیا تھا.
مجھے تاؤ آیا.
بس باجی.... شاہد کے ساتھ باتیں کرتی رہی، رات گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا، صبح فجر کے قریب سو پائی اور اب آپ کے سامنے ہوں....
میں تو سر ہی تھام کر رہ گئی....
میں اسکا علاج کرنے چلی تھی،سارا دن اسکے ساتھ چپکی رہتی، اپنا آرام سکون بھی گنوا دیا اور اس نے وہ کام رات میں شروع کر لیا تھا.....
مطلب میری سب قربانیاں رائیگاں.....
اس پہ بہت غصہ آ رہا تھا، دل چاہ رہا تھا دو چار جڑ دوں.... اسے بتاؤں کہ شاہد دفع ہو چکا ہے اسکی زندگی سے.... اس بے وفا کے لیے زندگی تباہ نہ کرے.....
پر اسے کچھ نہ کہہ سکی اور غصہ دباتی ہوئی اپنے کمرے میں جا بیٹھی.
کیا ہو گیا صبح صبح تمہارے موڈ کو..... صائم نے پوچھا.
میں نے انہیں کوئی جواب نہ دیا اور سائیڈ ٹیبل پہ پڑا موبائل اٹھا لیا اور نمبر ملانے لگی.
خالہ.... بس بہت ہو گیا، آ کر لے جاؤ اسے..... اب میں مذید اسکی ڈیوٹی نہیں دے سکتی.....
نہ سلام نہ دعا..... میں شروع ہو گئی.
خالہ میری عادت سمجھ چکی تھیں، پہلے تو میری سنتی رہیں، کچھ نہ بولیں....
جب میں رکی تو التجا کرنے لگیں، دعائیں دینے لگیں....
ان کا وہی موقف.... تمہارے پاس رہے گی تو جلدی ٹھیک ہو جائے گی، میرے گھر کا ماحول اسے پاگل خانے پہنچا دے گا....
اور میں اک بار پھر موم ہو گئی.
اب میں سوچ میں پڑ گئی کہ رات کا حل کیسے نکالا جائے.
کئ دن گزر گئے، میں کوئی حل نہ نکال سکی، چھوٹے چھوٹے بچے تھے، شوہر تھا، اب انہیں چھوڑ کر میں کنول کا پہرہ نہیں دے سکتی تھی.
ایک دن وہ معمول کے مطابق اٹھی, کچن میں آ کر کام کرنے لگی، اسکی بچی صبح اسکے ساتھ ہی اٹھ جایا کرتی تھی، آج وہ اکیلی کمرے سے باہر آئی تھی.
چھوٹی نہیں اٹھی.... میں نے ایسے ہی پوچھ لیا.
نہیں آپی وہ سو رہی ہے..... اس نے کچھ اکتائے ہوئے لہجے میں کہا.
میں سمجھی رات بھر اس نے سونے نہیں دیا ہو گا، اس لیے اس سے اکتائی ہوئی ہے.
معمول کے مطابق کام ہوتے رہے، صائم ناشتہ کر کے ٹی وی آن کر کے بیٹھ گئے کہ آج چھٹی تھی، میرے بچے جاگ گیے انہیں سیریلیک کھلا کر صائم کے پاس بیٹھا دیا وہ اپنے کھلونوں سے کھیلنے لگے.
میں باہر نکل آئی کہ دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا جائے.
کنول برتن دھو رہی تھی.
چھوٹی کے لیے جو سیریلیک میں نے پیالی میں ڈالا تھا وہ ویسے کا ویسا پڑا تھا. چھوٹی ابھی تک نہیں اٹھی..... میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا.
نہیں آپی..... اس نے عام سے انداز میں کہا.
کیوں.... پہلے تو وہ کبھی اتنا نہیں سوئی.... جاؤ چیک کرو اسے وہ ٹھیک تو ہے ناں..... مجھے پریشانی ہونے لگی.
سونے دو آپی اسے.... ساری رات بہت تنگ کیا اس نے.... مجھے شاہد سے بات بھی نہیں کرنے دی ٹھیک سے..... پھر میں نے ایسا سلایا اسے کہ دیکھو ابھی تک سو رہی ہے..... اس نے برتن دھوتے ہوئے بہت آرام سے بتایا.....
پر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، میں اسکےکمرے کی طرف بھاگی.
سامنے کا منظر مجھے رلا گیا.
وہ معصوم بظاہر آرام سے سو رہی تھی پر اسکا نیلا اور کالا پڑتا چہرہ رات کی داستان بیان کر رہا تھا، کنول نے شاید تکیہ اسکے منہ پہ رکھ کر اسے ابدی نیند سلا دیا تھا....
مجھ سے برداشت نہیں ہوا، میں چیختی ہوئی صائم سے جا چپکی.... وہ پریشان حال مجھ سے وجہ پوچھنے لگے.
کچھ دیر رونے کے بعد میں انہیں بتانے کے قابل ہوئی.
وہ کتنی ہی دیر شاکڈ بیٹھے رہے، پھر خالہ کو فون کرنے کو کہا.
میں نے خالہ کو فوراً پہنچنے کا کہا.
وہ بیچاری روتی دھوتی پہنچ گئی. کنول کو ابھی تک احساس نہ تھا کہ وہ کیا کر بیٹھی ہے، ہاں ہمیں روتا دیکھ کر سہم کر ایک طرف بیٹھ گئی تھی.
خالہ نے منتیں کیں کہ کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ کنول نے بچی کو مارا ہے.... اب بچی کی حالت صاف بتا رہی تھی کہ دم گھٹنے سے مری ہے.....
میری بچی کو پولیس لے جائے گی، اسے بچا لیں.
بہت سوچ بچار کے بعد سب سے یہی کہا گیا کہ کنول بیمار تھی، دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی اور رات بچی اسکے پہلو میں آ کر دم گھٹنے سے مر گئی، اور کنول کو پتہ نہیں چلا اور اس پہ قیامت بیت گئی.
جلد از جلد اسکی تدفین کر دی گئی.
میں نے اسے خالہ کے ساتھ بھیجنے کی کوشش کی پر اس نے خود ہی جانے سے انکار کر دیا.
خالہ اس نے شاہد کو خود پہ اتنا سوار کیوں کر لیا، میں غصے سے پھٹ پڑی.
بیٹی اس جھلی نے عشق کیا ہے اس سے، جس سے عشق ہو وہ اعصاب پہ سوار تو رہے گا ناں....
مرد ذات کا دل بھر جاتا ہے، پر عورت کی محبت تو وقت کے ساتھ بڑھتی ہے..... گھٹتی نہیں.....
خالہ نے آنسو صاف کئے.
کنول اب گھر کے کام معمول کے مطابق کرتی پر بات کرنا چھوڑ دیا تھا، کسی سے بھی کوئی بات نہ کرتی..... بس کسی روبوٹ کی طرف چلتی پھرتی کام نمٹاتی رہتی.
میں جو اسکا علاج خود سے کر رہی تھی، اب سمجھ میں آیا کہ اسکی بیماری بہت بڑھ چکی ہے اور اسے کسی اچھے سائکاٹرسٹ کو دکھانے کی ضرورت ہے.
میں اسے لے کر شہر کے اچھے ڈاکٹر کے پاس جا پہنچی.
ساری صورتحال سے آگاہ کیا.
اس نے اسکے لئے کچھ دوائیں تجویز کر دیں اور ہر ماہ چیک اپ کے لیے کہا.
میں کچھ دن اسے خود دوا دیتی رہی، اب اسکی طبیعت میں فرق آ رہا تھا کچھ پوچھو تو جواب دینے لگی تھی.
میں خوش تھی کہ وہ نارمل ہو رہی ہے.
کبھی کبھی اپنی بچی کو یاد کر کے رو لیتی.
اسے نارمل ہوتا دیکھ کر
کچھ دن بعد اسکی دوائیں اسکے سپرد کر دیں اور ہدایت دی کہ ناغہ نہیں ہونا چاہیے، سب دوائی وقت پہ لینا.
پھر روز پوچھ لیتی تھی کہ دوا لے لی وہ اثبات میں سر ہلا دیتی.
ایک دوا کے متعلق اسے بتا دیا تھا کہ جس روز طبیعت زیادہ خراب لگے، خیالات زیادہ تنگ کریں تو یہ دوا لے لینا اور سو جانا، ان شا اللہ جلدی ٹھیک ہو جاؤ گی.
اسے دوا لیتے مہینہ بھر ہونے کو تھا، میں کچھ مصروف تھی، اسے ڈاکٹر پہ لے جانے میں کوتاہی ہو رہی تھی.....
رات میں نے پکا ارادہ کیا کہ صبح ڈاکٹر پہ ضرور جانا ہے.
صبح وہ ناشتے کے لیے نہیں اٹھی، میں نے اٹھایا نہیں کہ شاید تھکی ہوئی ہو، چلو نیند پوری کر لے، صائم کو ناشتہ دے کر میں نے اسکے لئے بھی بنا دیا، سوچا کمرے میں ہی دے آؤں.
میں اسے جگانے گئی تو چیخ ہی پڑی، بستر پہ اک شیشی کھلی پڑی تھی یہ انٹی ڈپریشن گولیاں تھیں، رات شاید اسے پھر دورہ پڑا ہو گا، خود کو ریلیکس کرنے کو اس نے کافی ساری گولیاں پھانک لی ہوں گی.... اب دنیا مافیا سے بے خبر پر سکون ابدی نیند سو رہی تھی.
شاہد تم سسک سسک کر جیو اور تڑپ تڑپ کر مرو.... میرے منہ سے بددعا نکلی....... تمہیں کبھی چین نہ آئے،
او بے قدر،
تجھے کیا خبر
تیرے عشق میں کوئی
جان سے گیا گزر
میں زمین پہ بیٹھی گھٹنوں میں سر دیئے بلک بلک کر رو دی.



ختم شدہ


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔