Saturday, April 4, 2020

فریب. انابیہ خان کےقلم سے

0 comments

فریب
انابیہ خان کےقلم سے

یہ ایک ایسی تحریر ہے جو آج کل سوشل میڈیا فیسبک  جہاں  لڑکیاں محبت کے فریب میں پھنس جاتی ہیں ان کے لیے ایک سبق ہے ۔ پلیز اسے اگنور مت کیجے گا  ۔ اس لیے میں نے اس ناول کا نام بھی فریب رکھا ہے ۔ اس کو پڑھ کر اگر ایک لڑکی نے بھی سبق سیکھ لیا ۔ تو میں سمجھوں گی میری محنت وصول ہو گی ۔ پلیز پڑھ کر مجھے بتائے گا میں کہاں تک کامیاب ہوئی اس کا فیصلہ آپ سب نے کرنا ہے  ۔ لکھنا میرا کام تھا سو میں نے لکھ دیا ۔ خدا راہ یہ فیسبک کی دینا صرف ٹائم وسیٹ کی جگہ ہے ۔ محبت کی نہیں ۔ محبت کرنی ہے تو اللہ سے کرو ۔ آقا دو جہاں سے کرو ۔ جہاں رسوائی کا کوئی ڈر نہیں جو پاک محبت ہے ۔ میں آپ سب سے ریکوسٹ کرتی ہوں ۔ اپنے ماں باپ کو رسوا مت کرو ۔ کیا اس لیے تم لوگوں کو پال پوس کر جوان کیا ۔ جب تم بڑے ہو جاو تو  رسوائی ان کا مقدر کر دو ۔ رسوا ہونا کیا ہے ۔۔۔۔کیا جانتے ہو آپ رسوائی کے بارے میں  ۔ خدا راہ محبت کے جھوٹے جال میں مت خود کو پھنساو ۔ محبت دور سے تو ایک خوبصورت خوش نما احساس  لگتی ہے ۔ پاس جا کر دیکھو تو اس سے بھیانک بد نما بد صورت  اور کوئی چیز نہیں ۔ اگر محبت محرم سے ہو تو سکون دیتی ہے اور ۔ اگر نا محرم سے ہو تو ۔ یہ زندگیاں رول دیتی ہے ۔ یہ زندگی سے سکون چھین لیتی ہے ۔ موت کو  انکا مقدر بن بنا دیتی ہے ۔ ۔
تمھیں شرم نہیں آتی چوری کرتے ہوئے ۔آج عرفانہ شدید غصے میں وردہ  پر برس رہی تھی ۔ اپنی ماں کی طرح خود غرض ہو تم ۔ تھوڑی سی بھی تم میں شرم و حیا ہوتی تو چلو بھر پانی میں ڈوب کے مر جاتی ۔عرفانہ سنک میں برتن پٹختے ہوئے بولی ۔
مامی مجھے بہت بھوک لگی تھی ۔ اس لیے میں نے روٹی  کھا لی  ۔ عرفانہ نے پلٹ کر اسے دیکھا  پھر اپنی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے خونخوار لہجے میں  بولی ۔ تیرا باپ کما کر رکھ گیا نہ تیری ماں کوئی  قارون کا خزانہ چھوڑ کر مری تھی ۔ ظلم خدا کا کوئی رات کو بھی اٹھ کر روٹی کھاتا ہے جو تو کھا گئی ۔ آ جائے تیرا ماموں کرتی ہوں بات اس سے ۔ دھو لینا سارے برتن نکمی کہیں کی ۔ جی ممانی ۔ وہ اتنا کہہ کر برتن دھونے لگی ۔ کاش مما آپ نے یہ سب نہ کیا ہوتا تو آج یہ طعنہ تو نہ ملتا  ۔ سارے کام کرتی ہوں پھر بھی سب نکمی ہی بولتے ہیں ۔ وہ آنسوں بہاتے  ہوئے سوچے جا رہی تھی ۔ سارے برتن دھو کر جب وہ کمرے میں آئی شاید اس کی ممانی فون پر کیسی سے باتیں کر رہی تھی ۔ وہ ممانی کے کمرے میں جانے کی بجائے اپنے کمرے میں چلی آئی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں کرتا ہوں بات ۔ جیسے ہی اس کا ماموں گھر آیا ۔ اس کی ممانی نے سب بتایا ۔ وہ بھی غصے میں آتے ہوئے بولا ۔ لائبہ لے آؤ اس کرم جلی کو عرفان نے اپنی بیٹی کو بولا ۔ اف بابا  میں نہیں جاوں گی میرا ڈراما آنے والا ہے ۔ بابا آپ چلے جاؤ ۔ وہ غصے سے لائبہ کو دیکھتے ہوئے خود چلا گیا ۔ یہ کیا حرکت کی تم نے وہ غصے سے چلاتے ہوئے بولا ۔ جو اپنی ہی دھن میں بیٹھی صفائی کر رہی تھی ماموں کی چیخنے ہر اچھل پڑی ۔ م مم ماموں کیا ہوا وہ اٹکتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی ۔ ماموں نے ایک آنکھ ماری اسے آرام سے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ پھر آرام سے بولے یہ کاغذ اپنے پاس رکھ لو میرے جانے کے بعد پڑھ لینا۔ پھر زور سے بولے اگر آئندہ ایسا کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ۔ سنا تم نے رہنا ہے تو اپنی ممانی کا ہر حکم تم نے ماننا ہو گا ۔ یہ کہہ کے وہ کمرے سے باہر چلے گے ۔ وردہ نے  وہ کاغذ کھولا ۔ لکھا تھا ۔ بیٹی میں مجبور ہوں اگر ایسا میں نہ کرتا تو تیری مامی نے میرا جینا مشکل کر دینا تھا ۔ تم میری سمجھ دار  بیٹی ہو میری مجبوری سمجھو گی ۔ اپنے اس ماموں کو ہو سکے تو معاف کر دینا یہ سوچ کر تیرا یہ ماموں بے بس ہے ۔ یہ کچھ پیسے میں دے رہا ہوں اپنے لیے کوئی ڈھنگ کے کپڑے لے لینا ۔ وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر کاغذ چومنے لگی ۔ ماموں مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں آپ بھی تو میری طرح بے بس ہو ۔ میں نے آپکو معاف کیا ۔وہ شاپر سے پیسے نکالنے لگی ۔ پیسوں کو گنا تو پورے تیس ہزار تھے ۔ اف ماموں اتنے سارے پیسے ۔ ماموں کی محبت دیکھ کر وردہ کا سر اور بھی جھک گیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کیا ہوا رودابہ کیوں پریشان ہو ۔ رودابہ کی کزن عالیہ نے اس کا موڈ پریشان دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔ وہی روز کا مسئلہ مما چاہتی ہے میں شادی کروں ۔ لیکن ابھی مجھے نہیں کرنی ۔ رودابہ آخر مسئلہ کیا ہے تمھارا ۔ اگر آنٹی چاہتی ہے ۔ رشتہ بھی آیا ہے تم نے پڑھائی بھی مکمل کر لی تو اس میں حرج بھی کیا ہے ۔ کر لو شادی ۔ رودابہ نے سر اٹھا کر اپنی اس کزن کو دیکھا ۔ جو اس کی دوست کم بہن زیادہ تھی ۔ یہ کزن بچپن سے ہی اک ساتھ پلی بڑھی تھی ۔ ساتھ ساتھ گھر تھے ۔ دونوں تھی بھی خالہ زاد ۔ بنا روکاوٹ کے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا ۔ جب جس کا موڈ ہوتا اٹھ کر آ جاتی ایک دوسرے کے گھر ۔ کوئی روک ٹوک نہیں تھی ۔ رودابہ ایک بہن ایک بھائی تھے سب سے بڑا اس کا بھائی عرفان ۔ عرفان سے پورے دس سال چھوٹی رودابہ تھی ۔ عالیہ دو بھائی ایک بہن تھی ۔ پہلے شہزاد پھر احسان ۔ احسان سے چھوٹی عالیہ تھی ۔ کیوں نہ اس کو سب کچھ بتا دوں شاید میری کوئی مدد کر سکے رودابہ نے سوچتے ہوئے اپنا سر اٹھایا ۔ ایک نظر اپنی اس دوست کو دیکھا ۔ جو پہلے ہی اسے دیکھ رہی تھی ۔ کیا ہوا کیا سوچ رہی ہو عالیہ نے اس کے چہرے پر پریشانی کی لکیریں واضع دیکھی ۔ سوچ رہی ہوں تم سے مدد مانگوں ۔ کیسی مدد ۔ عالیہ واقعی میں فکر مند ہوئی ۔ مجھے پیار ہو گیا ہے کیا تم میری مدد کرو گی ۔ رودابہ ڈرتے ہوئے پوچھنے لگی ۔ پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔ تم میری کہاں مدد کروں گی ۔ تم تو الٹا مجھے ہی نصیحتیں کروں گی ۔ کون ہے وہ ۔عالیہ نے خود کو کہتے سنا ۔ وہ میری فیس بک کی آئی ڈی پر ہے ۔ کیا عالیہ شاک کی حالت میں اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔ تمھارا دماغ خراب تو نہیں ۔ محبت وہ بھی فیسبک پر ۔ تم اندھی ہو گی ہو ۔ جو یوں پیار کرنے چلی ہو ۔ یہ بھی کوئی پیار ہوا ۔ دورابہ نے سر اٹھا کر تاسف سے اپنی کزن کو دیکھا ۔ پیار تو پیار ہے کہیں بھی ہو جائے ۔ ابھی تم خاموش رہو عالیہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روکا ۔ میں تمھیں ایسا نہیں سمجھتی تھی ۔ تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو ۔ مجھے یہ امید نہیں تھی تم ایسی بچکانہ باتیں بھی کروں گی ۔ فیسبک سوشل میڈیا سب جھوٹ ہے ۔ یہاں پر ٹائم ویسٹ تو کیا جاتا ہے بٹ محبت نہیں ۔ یار وہ دو سال سے محبت کر رہا ہے ۔ تم یقین کرو اس کی دس ایڈیز میں نے بلاک کی ہیں لیکن وہ پھر آ جاتا ہے ۔ مجھے اللہ کے واسطے دیتا ہے ۔ مجھ سے آج تک کوئی پیکچرز نہیں مانگی ۔ مجھ سے کبھی اس نے فون نمبر تک نہیں مانگا ۔ اس کی محبت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا رودابہ نے چارگی سے وضاحت دی    ۔ عالیہ نے اپنا سر ہلاتے ہوئے اسے دیکھا ۔ یہ محبت کا ثبوت نہیں اسے کنفرم تھا تم لڑکی ہوں ۔ آج نہیں تو کل اس کے جال میں پھنس جاوگی ۔ کیونکہ جو لڑکیاں ہوتی ہیں وہ کم عقل ہوتی ہیں وہ مردوں کی باتوں میں آ ہی جاتی ہیں وہ تاسف سے اسے دیکھتے ہوئے بولی  ۔ کچھ توقف کے بعد بولی ۔  اگر تین دن میں میں اس سے دوستی کر کے تم کو بلاک کروا دوں تب مانوں گی وہ جھوٹا ہے  ۔ ایسا ممکن ہی نہیں ۔ رودابہ نہ ماننے والے انداز میں بولی ۔ اگر ایسا میں کر دوں تب مانوں گی میری بات کا جواب دو عالیہ نے ایک بار پھر تنبیہ کیا  ۔ ایسا ممکن نہیں وہ دو سال سے مجھ سے محبت کرتا ہے وہ پل میں کیسے مجھے چھوڑ سکتا ہے ۔ وہ بے یقینی سے عالیہ کو دیکھ کر رونے والے انداز میں  بولی ۔ رودابہ تم ان مردوں کو نہیں جانتی پتہ نہیں کتنی لڑکیاں ان کی دوست ہوتی ہیں ۔ یار اب بھی کچھ نہیں بگڑا چھوڑ دو سب ۔ وہ رودابہ کو  پیار سے آہستہ آہستہ سمجھ رہی تھی۔۔ وہ تھی کہ ماننے کا نام نہیں لے رہی تھی   ۔ یار دو سال ہو گئے ہیں مجھے اس سے بات کرتے ہوئے میں اسے نہیں چھوڑ سکتی ۔ اب تو اس کی وجہ سے میں سارا دن اون لائن  رہتی ہوں وہ جب تک مجھ سے بات نہ کر لے مجھے کہیں بھی سکون نہیں ملتا ۔ رودابہ تم واقعی میں پاگل ہو ۔ تم مجھ سے شرط لگاؤ ۔ ٹھیک ہے رودابہ ہار مانتے ہوئے بولی یہ دیکھو اس کی یہ آئی ڈی  ہے ۔۔تم بات کر لو ۔ اگر یہ تمھارے ساتھ باتیں کرنے لگا یا اس نے تم سے دوستی کر لی تو میرا وعدہ ہے میں چھوڑ دونگی اس کو ۔ اگر تم ناکام ہوئی تو تم میرا ساتھ دوگی کروں وعدہ ۔ رودابہ اپنا ہاتھ آگے کر کے متانت سے دھیرے لہجے میں بولی ۔ ٹھیک ہے میں دوں گی تمھارا ساتھ ۔ دونوں سہیلیوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہوئے وعدہ کیا ۔ مجھے کچھ ایسا کرنا ہو گا عالیہ بھی ساتھ دے اور عاشر بھی میرا ہی رہے ۔ پھر اس نے نٹ آون کیا ۔ عاشر کو اون لائن دیکھ کر رودابہ کے ہونٹوں پر ہنسی آئی ۔ اس نے میسج کیا ۔ ہیلو جان کیسے ہو ۔اس کا ریلپلائے آیا ۔ جان میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو تمھارا ہی ویٹ کر رہا تھا ۔ میری جان نے ڈنر  کر لیا ۔ رودابہ نے  ٹائپنگ کی نہیں ابھی اپنی کزن کے ساتھ بیٹھی تھی پھر اس نے ساری ڈیٹلز سے اسے آگاہ کیا ۔ اپنی کزن کی آیئ ڈی دیکھائی یہ لڑکی تمھیں فورس کرئے گی دوستی کے لیے تم دوستی نہ کرنا یہ ہمارے پیار کو آزمانا چاہتی ہے ۔ جان تم بے فکر رہو میں ہینڈل کر لوں گا   ۔۔کل یہی لڑکی تمھاری مدد کرنے کو راضی ہو  گی ۔۔ اب تم دیکھو میری جان یہ عاشر گل کیا کرتا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پھر عالیہ نے اپنی پوری کوشش کی ۔ عاشر اس سے دوستی کر لے ۔ پر وہ نہ مانا ۔ دیکھو میں تم سے دوستی کرنا چاہتی ہوں ۔ عاشر کا ریپلائے آیا ۔ آپ جو بھی ہو مجھے آپ سے کوئی دوستی نہیں کرنی ۔ میں کیسی اور کو پسند کرتا ہوں ۔ عالیہ نے ریپلائے کیا ۔ میں محبت کی بات نہیں کر رہی ۔ جسٹ دوستی کرنا چاہتی ہوں آپ سے ۔ وہ لڑکی کون ہے جیسے آپ پسند کرتے ہو ۔ عاشر بولا ۔ میں بتانا پسند نہیں کرتا وہ جو بھی ہے میری جان ہے میں نے اپنی مما سے بات کی ہے ہم ان قریب شادی کرنے والے ہیں ۔ یہ کہتے ہی عاشر نے عالیہ کو بلوک کر دیا ۔ ایک پل کے لیے عالیہ بھی ان دونوں کی محبت پر یقین کر بیٹھی ۔ میں ان دونوں کا ساتھ دونگی ۔ دوسرے پل وہ پھر ششو پند میں مبتلا ہو گی ۔ نہیں یہ سب جھوٹ ہے ایسا ممکن نہیں ۔ فیسبک کی محبت اتنی پائیدار نہیں ہو سکتی ۔ میری فرینڈ نیلم نے بھی تو فیسبک پر محبت کی تھی ۔ کیا بنا اس کا ۔ رسوائیاں اس کا مقدر بن گی ۔ وہ آج بھی خود کو کوستی ہے ۔ میں رودابہ کے مقدر میں رسوائیاں نہیں چاہتی ۔ میں رودابہ کو روکوں گی ۔ اے میرے اللہ میری رودابہ پر رحم کرنا ۔ وہ نادان ہے ۔ میں ان دونوں کا ساتھ نہیں دوں گی ۔۔ کبھی نہیں وہ دل میں پختہ ارادہ کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ ایسی ٹائم   اذان ہو رہی تھی وہ وضو کرنے چلی گی ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سمجھا دیا اسے ۔ عرفان کو کمرے میں آتا دیکھ کر عرفانہ نے بیڈ شیٹ بناتے ہوئے پوچھا ۔ ہاں اچھی طرح سمجھا دیا ہے وہ اب نہیں کرئے گی ایسا کچھ  ۔ عرفان نے ٹھنڈی سانس خارج کرتے ہوئے کہا ۔ اور بیڈ پر بیٹھ کر پڑھنے کے لیے ڈائجسٹ اٹھ لی ۔ ایک تو میں تھک گی ہوں تیری ان ڈائجسٹوں سے ۔ کبھی آرام سے بات بھی کر لیا کروں جب بھی دیکھو آفس۔ آفس سے آ کر یہ موئی ڈائجسٹ اٹھا لیتے ہو ۔ ہم بات کریں تو آخر کب کریں ۔ تم بات کروں میں سن رہا ہوں باتیں کانوں سے سنتے ہیں ۔ عرفان نے اپنا چشمہ پہنتے ہوئے کن اکھیوں سے اپنی بیوی کو دیکھا ۔ مبداء اسے پتہ تو نہیں چلا ۔ وردہ اور اس کی  بیچ جو  باتیں ہوئیں  ۔ عرفانہ کے چہرے پر ایسے کوئی بھی تاثرات نہیں تھے جس سے پتہ چلتا کہ وہ سب باتیں جان چکی ہے ۔ یہ بچے کہاں ہیں ۔ عرفان نے اپنا  چشمہ اتر کر سایڈ ٹیبل پر رکھا ۔ میچ کھیلنے گئے تھے ابھی تک نہیں آئے ۔ عرفانہ مشین پر کپڑے سیتے ہوئے مشین روک کر بولی ۔ اچھا تم اب یہ ٹرٹرٹر بند کر مجھے سونے دے ۔ میں کہاں جاوں تم باہر جا کر سو جاو ۔ کیا میں باہر جاوں تم کیوں نہیں چلی جاتی ۔ اچھا ٹھیک ہے غصہ تو نہ ہو میں چلی جاتی ہوں ۔ عرفانہ کو اپنے شوہر کے غصے سے بڑا ڈر لگتا تھا ۔ وہ مشین اٹھا کر باہر چل پڑی ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں نے کہا تھا نہ وہ مجھے بہت پیار کرتا ہے ۔  اب تم بھی اپنا وعدہ یاد کرو ۔ کیا کرنا ہے عالیہ ہار مانتے ہوئے بولی ۔ تم امی سے بات کرو نہ ۔ امی کو فورس کرو ان کو سمجھاؤ ۔ آنٹی کیا بولتی ہے ۔ عالیہ نے اپنی آواز دھیمی کر کے پوچھا ۔ ابھی تو مجھے بھی نہیں پتا وہ کیا بولتی ہیں ۔ بٹ ایک دن اتنا بولا تھا ۔ میری شادی جب بھی کریں گی ۔ اپنوں میں ہی کریں گی ۔ رودابہ اپنے ناخنوں کو کترتے ہوئے بولی ۔ مجھے سمجھ نہیں آتا جب آنٹی نہیں مانتی تو تم کیوں نہیں مان جاتی دیکھو یہ فیسبک کا پیار جھوٹ ہوتا ہے ۔ تم کیوں نہیں سمجھتی ۔ تمھیں میری دوست نیلم یاد ہے ۔ عالیہ کوک کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔ کون سی دوست نیلم رودابہ نے ذہن پر زور دیتے ہوئے جواب دیا ۔ اچھا اچھا یاد آیا وہ جو بڑی ہو کر بھی دو پونیاں بناتی تھی کیوں کیا ہوا اسے ۔ ہاں وہی    عالیہ ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے بولی ۔
کیا ہوا اسے ۔ رودابہ بے چینی سے بولی ۔ عالیہ نے کوک اٹھ کر ایک ہی سانس میں غٹاغٹ کر کے پی کر خالی بوتل پھر میز پر رکھ کر ایک بار اپنی اس معصوم سی کزن کو دیکھ کر بولی ۔ وہ آج اپنے لیے موت کی دعا کرتی ہے ۔ لیکن ایسا کیا ہوا ہے اس کے ساتھ ۔ رودابہ ہاتھ مسلتے ہوئے پریشانی سے بولی ۔ میں زیادہ تو نہیں جانتی ۔ پر اس نے بھی فیسبک پر کیسی لڑکے سے پیار کیا تھا ۔ پھر وہ اس لڑکے کے ساتھ بھاگ گی ۔ وہ لڑکا دھوکے باز تھا ۔ کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہ کر اسے پھر اس نے چھوڑ دیا ۔ وہ نہ واپس آ سکتی تھی نہ وہاں رہ سکتی تھی ۔ عالیہ کچھ لمحے خاموش ہو گی ۔ پھر کیا ہوا ۔ رودابہ نے اپنے ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے پوچھا ۔ بولا تو ہے میں زیادہ نہیں جانتی ۔ یہ تو میری دوست لیلی جو اس کی بھی دوست تھی اس  نے بتایا ہے ۔ دیکھو چندا میں نہیں چاہتی اللہ نہ کرے تمھارے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو ۔ عالیہ کرسی سے اٹھ کر گھٹنوں کے بل زمین پر ہی رودابہ کے پاس بیٹھ کر اسے سمجھانے لگی ۔ اللہ نہ کرے رودابہ ڈرتے ہوئے تھورا پیچھے ہٹو ۔ یہ کیسی باتیں کر رہی ہو عالیہ ۔ میرا عاشر ایسا نہیں ۔ انگلی اور انگوٹھے میں فرق ہوتا ہے ۔ سب انگلیاں بھی تو برابر نہیں ہوتی ۔ رودابہ نے اپنا ہاتھ الٹ کر کے عالیہ کے سامنے کیا ۔۔ اف یار تم سمجھتی کیوں نہیں ۔ سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ عالیہ فکرمندی سے تھوڑا لہجہ تیز کر کے بولی ۔ اچھا دیکھو اگر اس نے اپنی امی کو رشتے کے لیے بھیجا تو ہی شادی کرو گی اس سے ۔ نہیں تو بھول جاو گی ۔ کرو پرامس عالیہ نے اپنا ہاتھ رودابہ کے آگے کیا ۔ اچھا ٹھیک ہے رودابہ ہار مانتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا دیا ۔ اب بل پے کرو  اور گھر چلو ۔ رودابہ بل پے کرنے چلی گی ۔ عالیہ نے اپنے قدم  گاڑی کی طرف کر لیے ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رودابہ نے نٹ اون کیا ۔ عاشر کا میسج آیا ہوا تھا ۔ جان آج میں بہت پریشان ہوں ۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں ۔ دل چاہتا ہے موت کو گلے لگا لوں ۔ رودابہ نے ریپلائے کیا ۔ جان ایسا کیوں بول رہے ہو اور آخر ایسا کیا ہوا ہے کیوں اتنے پریشان ہو ۔ عاشر نے بھی ریپلائے کیا ۔ کیا کروں مما سے بات کی ہے وہ ماننے کو تیار نہیں ۔ میں چاہتا ہوں ہماری جلدی شادی ہو جائے ۔ میں نے سسڑ سے بھی بولا ہے شادی کروں گا تو صرف تم سے کروں گا ورنہ ساری عمر کنوارا رہوں گا۔۔ آج دو دن ہو گئے ہیں ۔ بھوک ہڑتال پر ہوں قسم لے لو ۔ جو ایک نوالہ بھی کھایا ہو ۔ وہ اپنی روٹی کو دیکھ کر ہنس کر ٹائپنگ کرنے لگا  ۔ جو ابھی کچھ دیر پہلے اس کی بہن اس کے سامنے رکھ کر گی تھی ۔ وہ اپنی روٹی سے انصاف کرتے ہوئے اس کے سامنے ڈائیلاگ مارتے ہوئے خود بھی ہنس رہا تھا ۔ یہ کیا بات ہوئی تم نہیں کھاؤ گے تو مجھے بھی قسم ہے میں بھی نہیں کھاؤ گی ۔ رودابہ واقعی میں پریشان ہو کر بولی ۔ یار تم کیوں نہیں کھاؤ گی ۔ میں تو مما سے بات منوانے کے لیے بھوک ہڑتال کی ہے ۔ اس میں تمھارا کیا قصور ہے ۔ تم کھا لو تم کو میری قسم ۔ ایک شرط پر کھاؤ گی ۔ رودابہ نے اپنا میسج ٹائپ  کیا ۔ کون سی شرط ۔اس نے بھی فورن جواب دیا ۔ تم گھر میں بھوک ہڑتال پر رہو۔۔ پر باہر جا کر کچھ کھا لو تب ہی میں کھاؤ گی ورنہ قسم سے میں نہیں کھاؤ گی رودابہ ماتھے کو سہلاتے ہوئے بولی  ۔ عاشر کا میسج آیا اچھا میں کھا لوں گا ۔ نہیں تم قسم کھاؤ تم باہر سے کچھ کھا لو گے رودابہ فکرمندی سے بولی  ۔ یار میرے پاس پیسے نہیں ہیں اس کا بھی جلدی میسج آیا ۔ اچھا میں کچھ رقم  جائز کیش  انکاونٹ میں تمھارے لیے  بھیج رہی ہوں پلیز اکسپٹ کر لو ۔ عاشر نے ریپلائے میں جواب دیا ۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں میں اتنا بھی بے غیرت نہیں تمھارا لے کر کھاؤ ۔ اس سے تو اچھا ہے میں بھوک سے ہی مر جاوں ۔ اللہ نہ کرے اچھا تم ادھار سمجھ کر رکھ لو جب آپکے پاس پیسے آ  جائیں  تو مجھے واپس کر دینا اگر تم نے یہ پیسے نہ لیے تو میں تم سے ناراض ہو جاوں گی وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولی ۔اگے سٹیکر کا مکا بھی بنا دیا ۔ ۔ یہ ٹھیک ہے لیکن میں واپس ضرور کروں گا عاشر بڑا شاطر انسان تھا ۔ اس نے اپنے فرضی کالر جھاڑے ۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا  ۔ اچھا بابا کر دینا آپکے پیسے اور میرے پیسوں میں فرق ہے کیا ۔ جب میری آپ سے شادی ہو گی پھر تو ہم ایک ہوں گے رودابہ نے ریپلائے دیا ۔ ۔ ہاں جان کیوں نہیں تب تو تم میری جان ہو گی تب میں تمھیں دونگا جتنے میری جان چاہے گی ۔ وہ اسے خوابوں کی دنیا میں لے  گیا ۔۔ آئی مس یو جان ۔۔رودابہ نے جلدی سے نٹ اف کیا اپنے پیسے دیکھے ۔ ابھی تو میرے پاس دس ہزار ہیں پھر اس نے وہی دس ہزار بھیج دیے ۔ کچھ دیر بعد رودابہ نے نٹ اون کیا ۔ عاشر کو میسج کیا ۔ میرے پاس ابھی دس ہزار ہیں میں تم کو وہی دے رہی ہوں ۔ آپکو مل گئے یا نہیں ۔ کچھ ہی دیر بعد عاشر کا ریپلائے ایا ۔ جان مجھے پیسے مل گے ہیں تمھارا بہت بہت شکریہ ۔ لو لو جان۔۔ آئی مس یو ۔ ابھی میں کچھ کھانے جا رہا ہوں ۔ اپنی جان کے لیے کیا لاؤ ۔ میری جان بھی تو بھوکی ہے ۔ رودابہ نے بھی ریپلائے کیا۔ نہیں آپ کچھ کھا لو. میں بھی کھانا کھانے لگی ہوں ۔ پھر اس نے نیٹ اوف کر دیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آنٹی اس میں ہرج بھی کیا ہے ۔ اگر وہ اپنی مما کو لے آیا ۔ تو آپ مل لیجئے گا ۔ بیٹی وہ غیر ہیں میرا دل نہیں مانتا غیروں میں بیٹی دینے کو ۔ رودابہ کی امی پھیکی سی ہنسی ہنس کر بولی  ۔ ہمیں کیا پتہ ان کا رہن سہن کیسا ہے انکا چال چلن کیسا ہے وہ لڑکا کرتا ہے اسکی فیملی بیک گراؤنڈ کیا ہے ۔ رودابہ کی امی کافی پریشان تھی ۔ آنٹی اس میں حرج  تو کوئی نہیں  ۔ دیکھیں اگر غیروں میں بیٹیاں دینے  میں کوئی برائی ہوتی تو میرا اللہ بھی منع کر دیتا میرے آقا دو جہان بھی روکتے صرف اپنوں میں ہی شادیاں کرو ۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کوئی حدیث میں یہ بات ثابت نہیں ۔ نہ اللہ نے روکا نہ ہمارے نبی نے ۔ ہمارا نبی بھی تو اللہ کا ہی فرمان ہم تک پہنچاتا ہے نہ ۔ ۔ آنٹی وہ بہت اچھے لوگ ہیں ۔ ہماری رودابہ بہت خوش رہے گی۔  ۔کیا رودابہ نے تم سے کچھ بولا ہے ۔ آخر وہ ماں تھی  سمجھ گی ضرور رودابہ نے ہی کچھ بولا ہے  ۔ جی آنٹی وہ رودابہ کو بہت پسند کرتا ہے اور رودابہ بھی اسے بہت پسند کرتی ہے  ۔  لیکن وہ اسے کیسے جانتی ہے آنٹی فکرمندی سے بولی ۔ آنٹی وہ اس کی بیسٹ فرینڈ کا بھائی ہے ۔ وہ فیسبک والی بات گول کرتے ہوئے کہنے لگی وہ جانتی تھی اگر فیسبک والی بات آنٹی کو پتہ چلی تو آنٹی کبھی بھی نہیں مانے گی اس لیے اس نے یہ بات چھپانے میں ہی رودابہ کی بھلائی جانی  ۔ ۔ اچھا بیٹی میرا دل تو نہیں مانتا ۔ تم رودابہ سے بولو ۔ اس لڑکے سے کہے اپنی مما کو بھیجے ۔ وہ ماں تھی نہ آخر وہ ہار مان گی ۔۔ شکریہ  آنٹی آپ نے میرا بھرم رکھ لیا اس کے لیے بہت بہت شکریہ ۔ عالیہ اپنی آنٹی کو گلے لگاتے ہوئے خوشی سے  بولی ۔ آنٹی نے بھی اس کو گلے لگا کر ماتھے پر پیار کیا  ۔ جیتی رہو بیٹی  ۔ عالیہ آنٹی کے کمرے سے نکل کر سیدھا رودابہ کے کمرے میں چلی گی ۔ رودابہ رودابہ عالیہ خوشی سے چیختے  رودابہ کو پکارتے ہوئے کمرے میں آئی ۔ رودابہ نٹ پر عاشر سے باتیں کر رہی تھی ۔ عالیہ کے اس قدر پکارنے پر لمحہ بھر کے لیے لپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر عالیہ کو دیکھا ۔ کیا مصیبت ہے ۔ وہ خوف زدہ ہو کر عالیہ کو دیکھ کر بولی ۔ عالیہ چہرے پر معصومیت سجا کر بولی ۔ یار تو ہر وقت اس موئے لپ ٹاپ سے کیوں چپکی رہتی ہے ۔ جب بھی دیکھو اس موئے کو گود میں رکھے بیٹھی ہے گھر میں کیا ہو رہا  کون کیا بول رہا ہے تمھیں تو کوئی فکر ہی نہیں ۔۔ رودابہ ناگواری سے بولی ۔ اب بک بھی چکو کیوں آئی ہو ۔ کوئی کام تھا مجھ سے یا صرف بک بک ہی کرتی رہوں گی  ۔ عالیہ بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھ کر بولی ۔ یار تم نے جو کام میرے سر ڈالا تھا    ۔ وہی کرنے آئی تھی ۔ رودابہ نہ سمجھی میں اسے دیکھتے ہوئے لپ ٹاپ کو بند کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسے ایک بار پھر دیکھا ۔ میں سمجھی نہیں کون سا کام ۔ ارے  یار عاشر کا بولا تھا نہ آنٹی سے بات کروں تو آج آنٹی نے مجھے خود بلایا ہے ۔ میں تم سے بات کروں ۔ ایک رشتہ آیا ہے ۔ لڑکا ڈاکڑ ہے ۔ آنٹی کہتی ہے میں تمھیں فورس کروں ۔ تو میں نے سب کچھ آنٹی کو بتا دیا ۔ پہلے تو آنٹی نہیں مانی ۔ پھر انہیں سمجھایا تو وہ اب بولتی ہیں آپ عاشر سے کہیں اپنی امی کو بھیجیں عالیہ نے پوری تفصیل بتاتے ہوئے کہا  ۔ کیا۔  یہ تم سچ کہہ رہی ہو  ۔ رودابہ نے کیا اتنے زور سے کہا ۔ کہ عالیہ نے بے اختیاری میں اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے آگے دے کر اپنی آنکھیں میچ لی  ۔ اف اگر تم اس وقت  قبرستان میں ہوتی قسم سے سارے مردے ڈر کر اٹھ بیٹھتے ۔ یہ کون سی آفت آ گئی عالیہ مصنوعی ڈر کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی   ۔ اف میں کیوں ہوتی اس وقت قبرستان میں اس نے گھڑی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا ۔ جہاں سوئیاں رات کے اٹھ بجا رہے تھے ۔  ۔ اچھا تم میرے ساتھ بیٹھوں ۔ میں  عاشر کو یہ خوش خبری دے دوں ۔ رودابہ نے نٹ اون کیا اور عاشر کو بتایا ۔ میری مما مان گی ہے وہ بولتی ہے آپ اپنی مما کو بھیجو ۔ عاشر کا ریپلائے آیا ۔ یار میری مما نہیں مانتی اسے سمجھا رہا ہوں تم مجھے کچھ  ماہ دو۔۔ میں انہیں راضی کر لوں گا ۔ یہ تو بہت زیادہ دن  ہیں عالیہ تھوڑی پریشانی سے کبھی لپ ٹاپ پر نظریں دوڑاتی تو کبھی رودابہ کو دیکھتی ۔ پھر رودابہ نے ٹایپ کیا ۔ عاشر یہ تو بہت زیادہ ہیں ۔ مما اتنے دن نہیں رکیں گی ۔ تم کچھ کروں اپنی مما کو جلدی راضی کروں ۔ عاشر کا بھی ریپلائے آیا اس نے کوئی میسج نہیں کیا تین چار سٹیکرز بھیج دیے جو آنسوں بہا رہے تھے ۔ رودابہ نے پھر میسج کیا ۔ یار تم رو کیوں رہے ہو ۔ پلیز یار رو مت مجھے بھی رونا آتا ہے ۔ اس نے بھی پھر بات کی یار مجھے کچھ دن تو دو میں راضی کر لوں گا ۔ عالیہ واقعی میں بہت پریشان تھی ۔ اچھا اس سے پوچھو کتنے دن چاہیں ۔ عالیہ نے ہی رودابہ سے لپ ٹاپ جھپٹتے ہوئے خود ٹایپ کیا ۔ عاشر نے اسی وقت جواب دیا ۔ جان تم ٹینشن مت لو ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ میں زیادہ ٹائم نہیں لوں گا ۔ اگر کچھ نہ بن سکا تو ہم کورٹ میرج کر لیں گے ۔ عالیہ نے سکرین پر جگمگاتا ہوا اس کا میسج پڑھا ۔ اس کے ماتھے پر پسینہ آنے لگا ۔ اس نے جلدی سے اپنے دوپٹے کے ساتھ اپنا ماتھا صاف کیا ۔ اپنے گالوں کو سہلایا ۔ اپنے خشک لب پر زبان پھرتے ہوئے تر کی ۔ پھر رودابہ کو دیکھا ۔ وہ بھی کچھ پریشانی سے عالیہ کو دیکھ رہی تھی ۔ اب کیا ہو گا عالیہ میں عاشر کے بغیر نہیں راہ سکتی ۔ میں مر جاوں گی اگر وہ مجھے نہ ملا ۔ پلیز مجھے مرنے سے بچا لو ۔ رودابہ کی آنکھوں سے ساون کی برسات ہونے لگی ۔ پتہ ہے جب وہ ناراض ہوتا ہے ۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے میراکھانا پینا چھوٹ جاتا ہے ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا میں اس دن بہت پریشان ہوتی ہوں ۔ ۔ وہ میری نس نس میں رچ بس گیا ہے  ۔ اگر وہ مجھے نہ ملا تو میں بھی زہر کھا لوں گی ۔ وہ عالیہ کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولی ۔ عالیہ بہت پریشان ہوگئی ۔ یہ تم کیا  اول فول  بک رہی ہو ۔ انسانوں کی تو مجرم بن گی ہو اب خدا کی بھی بننا چاہتی ہو ۔ یار ہر بات کا مثبت پہلو سوچتے ہیں منفی نہیں ۔ اللہ رحم کرے گا ۔ دیکھو شاید اس کی مما مان جائے ۔ عالیہ دل میں تو کافی خوف زدہ تھی ۔ اوپر اوپر اسے سمجھا رہی تھی دلاسے دے رہی تھی وہ بھی جان چکی تھی اب کیا ہونے والا ہے ۔ ۔ کہیں ایسا نہ ہو ۔ رودابہ زہر کھا لے ۔ عالیہ کا دل ہولے ہولے لزانے لگا ۔ ٹانگیں کانپنے لگی ۔ دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی ۔ میں مر جاوں گی رودابہ سر جھکائے لرزیدہ آواز میں بولی ۔ وہ مجھے پاگل کر دیتا ہے وہ مجھے کچھ اور سوچنے ہی نہیں دیتا  ۔ اس کی باتیں اس کا چہرہ نگاہوں سے ہٹاتا ہی نہیں ۔ کوئی بات کروں اس کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ۔ یار پلیز کچھ کروں میں تمھارےآاگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔ وہ دونوں ہاتھ جوڑے عالیہ کے سامنے گڑگڑانے لگی ۔ وہ سسکنے  لگی بلک بلک کر رو دی  ۔ عالیہ نے اس کے دونوں ہاتھ کھولتے ہوئے اسے گلے سے لگایا ۔ یار اللہ پر امید اچھی رکھو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ اس کی آنکھوں سے برسات کو بہنے سے روکا ۔ دیکھو جب تک اس کا کوئی جواب  نہیں آ جاتا ۔ تب تک اچھی امید رکھو ۔ ہو سکتا ہے اس کی مما مان جائے ۔ وہ رودابہ کے ہاتھوں کو ہولے سے  دباتے ہوئے بولی ۔ رودابہ سر جھکائے رونے میں مصروف تھی ۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گی ۔ کاش میں نے محبت نہ کی ہوتی ۔ اچھا اب بس  کرو رونا دھونا ۔ ابھی ٹائم بہت ہو گیا ہے میں اب چلوں گی ۔ اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ عالیہ دل میں بے چینی لیے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ مجھے انفارمیشن دیتی رہنا ۔ رودابہ نے سر کو ہلایا  بولی کچھ نہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عاشر اس بات کو بیس دن ہو گے ہیں ۔ آخر کب راضی کروں گے اپنی مما کو ۔ رودابہ رونے والے لہجے میں بولی ۔ عاشر کا ریپلائے آیا ۔ تم بتاؤ میں کیا کروں ۔ مما ماننے کو تیار ہی نہیں ۔ میں جتنا انکو فورس کرتا ہوں وہ بگڑ جاتی ہیں ۔ عاشر تم کہو تو آنٹی سے میں بات کرو ۔ عاشر بولا تم سمجھتی کیوں نہیں ۔ مما کو فیسبک کی لڑکیوں سے نفرت ہے ۔ اوپر سے تم بات کروگی تو مما باتیں  بنائے  گی او رانکا  بی پی شوٹ ہو جائے گا ۔ میں بات کر رہا ہوں جیسے ہی وہ مانے گی میں آ جاوں گا تمھارے پاس ۔ میری مما روز پوچھتی ہے میں کیا جواب دوں رودابہ رو دینے والے انداز میں بولی   ۔ عاشر نے ریپلائے کیا ۔ جان کیا تم مجھ سے واقعی میں محبت کرتی ہو ۔ ارے یہ پوچھنے کی بات ہے کیا رودابہ بولیں ۔ عاشر بولا اچھا تم میرے لیے کیا کر سکتی ہو ۔ میں اپنی جان تک دے سکتی ہوں ۔ آزما کر دیکھ لو ۔ رودابہ نے  ریپلائے کیا ۔۔ اگر میں کہوں ہم کورٹ میرج کرتے ہیں تو تم مانوں گی ۔ رودابہ نے  ریپلائے کیا ۔ جان تم تو اور سٹی سے ہو ۔ کیسے آو گے ۔اگر تم آ سکتے ہو تو میں بھی تیار ہوں ۔ رودابہ پر اس وقت محبت سوار تھی جنون سوار تھا ۔ اسے تو نیلم بھول گی اسے تو عالیہ کی باتیں بھول گی   وہ صرف پانے کی جستجو میں تھی ۔  یہ میرا مسئلہ ہے تم بتاو آؤ گی میرے ساتھ عاشر بردباری سے جواب دے رہا تھا   ۔ بولا تو ہے تم آؤ میں تیار ہوں ۔ ٹھیک  ہے میں آج کی فلائیٹ سے روانہ ہو رہا ہوں ۔ رات ایک تک تمھارے شہر آ جاوں گا ۔ تم اون لاین رہنا ۔ بلکہ میرے پاس تمھارا نمبرز ہے میں کال کروں گا تم آ جانا ۔ میں تمھیں لے کر ۔ اپنے ایک دوست کے پاس اس کے شہر لے جاوں گا ہم وہاں نکاح کریں گے ۔ اس کے بعد تم کو اپنے گھر لے جاوں گا ۔ تمھارے پاس پیسے ہوں تو وہ لے لینا ۔ میرے پاس بھی کچھ ہیں میں بھی لے آؤں گا ۔ پتہ نہیں مما نہ مانے ۔ تو میں جاب کر لوں گا۔ آخر تب تک تو ہم نے کچھ کھانا ہے جب تک مما نہیں مانتی مجھے پتہ ہے وہ زیادہ دن تک ناراض نہیں رہ سکتی آخر وہ ماں ہے ۔ میں دو دن گھر نہ آؤں وہ بے چین ہو جاتی ہے ۔ ۔ وہ اسے ساری ڈیٹلز  سمجھانے لگا ۔ اوکے ۔ کا میسج کر کے وہ اپنی چیزیں جمع کرنے لگی
وہ سارا سامان پیک کرنے لگی..  اس کے بابا نے اس کی شادی کے لیے  کچھ جیولری سیٹ رکھے تھے. اس نے وہ اٹھا کر اپنے بریف کیس میں رکھے. اپنے سارے کپڑے اٹھا کر وہ بھی رکھنے لگی.. پھر وہ اپنے کافی سارے نقدی  پیسے  لے کر اس نے وہ بھی اپنے بریف کیس میں رکھ کر وہ بریف کیس اپنے بیڈ کے نیچے چھپا دیا.میں تمھیں بھی نہیں بتاوں گی عالیہ ہو سکے تو اپنی اس دوست کو معاف کر دینا. اگر تم کو بتاتی تو تم مجھے یہ قدم کبھی بھی نہ اٹھانے دیتی.. اور تم جانتی ہو عاشر میری زندگی ہے اگر وہ نہیں تو میری یہ زندگی کس کام کی.. اس کا یادوں کا تسلسل میسج کی ٹون پر ٹوٹا. عاشر کا میسج تھا جان سے پیاری تم میری زندگی ہو اگر تم نہیں تو کوئی نہیں.. تمھاری خاطر اپنی زندگی رول دی.. میں راستے میں ہوں.. بس آنے ہی والا ہوں..تم تیار رہو.. تمھارا صرف تمھارا عاشر. اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی ہنسی عود آئی.. وہ آخری بار  اپنے بابا کے روم میں چلی آئی.. اس کا بابا اور اس کی مما سو رہے تھے. وہ آہستگی سے چلتے ہوئے اپنے بابا کے بیڈ کے قریب آئی. بنا آواز کے وہ آنسو بہاتی رہی. مما کو دیکھا. مما ہو سکے تو اپنی اس بیٹی کو معاف کر دینا میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں کاش عاشر کی مما مان جاتی مما مجھے آپ سے بابا سے بھی بہت محبت ہے. آپکے بنا میری زندگی کچھ بھی نہیں میں سب جانتی ہوں پر کیا کروں مجھے عاشر کے بنا کہیں سکون نہیں ملتا. . وہ دل میں اپنی مما سے مخاطب ہوتے ہوئے  خود کلامی میں بولی.. وہ آہستگی سے اپنے مما کے روم سے نکل آئی.. ابھی اس نے اپنے کمرے میں قدم رکھا ہی تھا کہ. اس کا موبائل بجنے لگا.. سکرین پر عاشر کا نام جگمگا رہا تھا.. اس نے اوکے کا بٹن دبایا.. یار کہاں ہو تم میں کافی دیر سے تمھارے دروازے کے سامنے کھڑا ہوں.. بس پانچ منٹ ویٹ کرو میں آتی ہوں..
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں کبھی اپنی مما کی طرح.. سلفیش نہیں بنوں گی.. میری ممانی جہاں بھی میری شادی کرے گی میں کروں گی.. تم پاگل ہو گئی ہو وہ بوڑھا انسان ہے.دو بچوں کا باپ ہے.جہاں تمھاری مامی نے زبان دی ہے. .علیزے شاک کی حالت میں وردہ کو گھورتے ہوئے سمجھنے والے انداز میں بولی... علیزے تو کیا ہوا.. میری مما نے جو بھی کیا وہ بہت غلط تھا مجھے ان کا بھرم رکھنا ہے.تمھاری مما بہت اچھی تھی.علیزے نے وردہ کی بات کاٹتے ہوئے اتنی ہی تیزی سے کہا. . میں نے کب انکار کیا علیزے وہ بہت اچھی تھی تبھی تو ان کو پیار ہوا پیار میں انسان اندھا ہو جاتا ہے میں سب جانتی ہوں .. کیوں تم اپنے ماموں کے بیٹے منیب سے محبت نہیں کرتی علیزے نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا. پلیز علیزے چپ رہو کیسی نے سن لیا نہ تو میری خیر نہیں سب مما کا طعنہ  دیں گے. بولیں گے اپنی مما کی طرح بننے چلی ہو.میں اپنے پیار کو اپنی مما پر قربان کر دوں گی.. ویسے بھی میں یہ بھی نہیں جانتی منیب بھی کرتا ہے یا نہیں.. مجھے اپنی مما بہت پیار ہے میں نہیں سن سکتی کوئی میری مما کے بارے میں غلط کہے. . مامی بتاتی ہے جب میری مما گھر سے نکلی تھی اس بات کے ٹھیک دس دن بعد نانا ابو کی بھی وفات ہو گی تھی پتہ ہے کیوں وہ علیزے کی طرف نظر اٹھا کر بولی. کیونکہ میرے نانا ابو کو دنیا والوں کے سوال تنگ کرتے تھے وہ بہت غیرت مند تھے وہ کہاں یہ سب افورڑ کر سکتے تھے. ان کی چہکتی بیٹی یہ گل کھلائے.میری مما نے ان کا بھرم توڑا ہے . ان کے تو وہم و گمان میں بھی یہ نہیں ہو گا.. کاش مما نے یہ قدم نہ اٹھایا ہوتا. تو آج میں بھی فخر سے بات کرتی . مجھے آج تک اس بات کے طعنے ملتے ہیں.میرے خون تک کو برا بھلا کہا جاتا ہے جو مجھے اذیت میں مبتلا کرتا ہے میں ٹوٹ جاتی ہوں یہ سب سن کر.. ماں باپ برے ہوں یا بھلے وہ ہوتے تو ماں باپ ہی ہیں نہ. . اگر میں آج اس رشتے سے انکار کر دوں.. تو اک بار پھر وہ کہانی دوہراوں .. میں اپنی مامی اور ماموں کا دل نہیں دکھا سکتی.. انہوں نے مجھے پالا ہے مجھے تعلیم دی ہے.. تعلیم تو شعور دیتی ہے اچھے برے کی پہچان دیتی ہے.. میری مما سے تو یہ میری ممانی اچھی ہے. بھلے انکو مجھ سے نفرت ہے.. پر وہ میرا خیال بھی تو رکھتی ہے.. میں ان کا سر کبھی نہیں جھکاو گی.. یہ تو میری ایک زندگی ہے ایسی لاکھوں زندگیاں بھی ہوتی تو  اپنی ممانی اور ماموں پر قربان کر دیتی. اور فخر کرتی میری زندگی میرے ماموں کے کام آ گئی .. اندر آتی ہوئی مامی کے قدموں تلے سے زمین سرک گی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہم کہاں جائیں گے.. وہ گھر سے باہر نکل کر ٹیکسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی.. میں نے آتے ہوئے ٹکٹ لے. لی تھی.. ابھی تو میرا اک دوست ہے ہم ان کے گھر جائیں گے. اس نے انتظام کیا ہے.. اس نے مولوی صاحب کو بھی بٹھایا ہوا ہو گا.. ہم جاتے ہی پہلے نکاح کریں گے. پھر سوچیں گے. آگے کیا کرنا ہے. وہ تفصیل سے وردبہ  کو آگاہ کرنے لگا.. وہ ریل اسٹیشن پر گاڑی رکواتے ہوئے.. جلدی سے ٹیکسی والے کو کرایہ ادا کرنے لگا.. وہ دائیں بائیں دیکھتے ہوئے. جلدی جلدی اس کا سامان اٹھا کر اسے اشارہ کرتے ہوئے گاڑی میں آ بیٹھا.. گاڑی نے سیٹی بجائی.. گاڑی اپنے سفر پر گامزن ہو گی.. رودابہ باہر کھڑی سے دور بھاگتا  اپنا شہر دیکھتے ہوئے رونے لگی.. عاشر مجھے لگتا ہے ہم نے بہت غلط کیا.. ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا. وہ انکھوں میں آئی نمی کو اپنے اندر اتراتے ہوئے بولی.. کیا ہو گیا ہے جان تم کو. جب ہم شادی کر لیں گے تو یہی ہمارے والدین خود مان جائیں گے تم دیکھنا. وہ اسے گلے سے لگاتے ہوئے اسے تسلی دینے لگا.. کیا ایسا ممکن ہے عاشر رودابہ نے اپنا سر اونچا کر کے پرامید نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ہاں جان کیوں نہیں ممکن. ہم نکاح کریں گے کوئی گناہ تو نہیں کریں گے۔کیا ہم واپس اپنے شہر آئیں گے۔ وہ اب بھی نا امید تھی۔مجھے تو ایسا لگتا ہے میری جان تم دیکھنا میں تمھیں بھی لے آو گا۔لاہور سے کراچی کا سفر اس نے کبھی روتے ہوئے تو کبھی مسکراتے ہوئے طے کیا۔ وہ اسے لیے کراچی اپنے ایک دوست کے گھر لے آیا۔ دوست کو اس نے ساری باتیں راستے میں ہی بتا دی تھی۔وہ اسے لیے جب گھر آیا تو اس کا دوست پہلے ہی مولوی کو لیے بیٹھا تھا۔مولوی نے جھٹ سے ان دونوں کا نکاح اسی ٹائم  کر دیا.. وہ دونوں ایک نئے بندھن میں بندھ گے۔وہ پہلے پہل تو دونوں بہت خوش تھے
کچھ ہی دن ہوئے ہوں گے۔۔یار تمھارے پاس اور کتنی جیولری اور پیسے ہیں ایک دن صبح ہی صبح عاشر نے بیڈ پر ہی لیٹے ہوئے رودابہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے کر  یوں ہی سرسری سے انداز میں پوچھا.. رودابہ نہ سمجھی والے انداز میں عاشر کو دیکھتے ہوئے بولی میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں.. عاشر اٹھ کر بیٹھ گیا.. یار بات دراصل یہ ہے کل رات عامر بول رہا تھا.. یہ گھر سیف نہیں ہے پاس ہی بینک ہے یہ سب وہاں رکھوا لوں تو اچھی بات ہے اس لیے پوچھا ہے تم سب لے آو میں وہاں رکھوا لیتا ہوں.. ہاں یہ اچھی بات ہے وہ اٹھ کر سارے گہنے اور پیسے لے آئی.. یہ دو سیٹ بابا نے میرے لیے بنوایا تھا. اور ایک سیٹ مما نے مجھے بنوا دیا.. وہ تینوں سیٹ عاشر کو دیتے ہوئے وہ سیٹ چومنے لگی.. عاشر وہ تینوں سیٹ لے کر اور تین سے چار لاکھ جو رودابہ لائی تھی وہ لے کر بنک چلا گیا..جاتے ہوئے ایک پل کے لیے روک کر بولا. جان تم آج تیار رہنا تمھیں میں سمندر لے جاوں گا. وہ رودابہ کے گالوں کو تھپکتے ہوئے سامان لے کر چلا گیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں نے ساری زندگی اس سے نفرت کی یہ جانتے ہوئے بھی اس سب میں اس کا کہیں بھی قصور نہیں ہے.. پھر بھی وہ لڑکی نے اف تک نہ کی..وہ پھر  بھی  مجھ پر جان دیتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی میں غلط تھی اور غلط ہوں.. اف یہ میں کیا کرنے چلی تھی وہ دو بچوں کا باپ ہے. کیا میں اپنی نمرین کے لیے اس کو پسند کروں گی. نہیں اللہ نہ کرے. جو نمرین کے لیے ایسا رشتہ آئے.. وہ جھرجھری لیتے ہوئے کانپنے لگی.. تو کیا یہ کیسی کی نمرین نہیں. اندر سے آواز آئی.  یہ میری نمرین نہ سہی کیسی کی تو ہے. میں نہیں کرنے دونگی اس سے شادی۔۔ وہ مطمئن ہوتے ہوئے کچن سے نکلی۔ وردہ وہ کچن سے ہی اسے آوازیں دیتے ہوئے آئی جو اپنی خیالوں میں گھر کی صفائی کر رہی تھی. مامی کی پکار پر اسے دیکھنے لگی۔ اف آج میری خیر نہیں اللہ میاں آج رحم فرما دے۔۔وہ دل ہی دل میں اللہ سے دعائیں مانگنے لگی.. ادھر مامی آنکھوں میں آنسو بھر کر بولی.. وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے مامی کے پاس آئی.. مامی نے اپنے دونوں ہاتھ بندھتے ہوئے کہا ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا میں تمھاری گنہگار ہوں. مامی آپ یہ کیا بول رہی ہیں وہ مامی کے دونوں ہاتھوں کو کھولتے ہوئے بولی۔آج تم چپ کرو مجھے بولنے دو. ہاں بیٹی میں تمھاری مجرم ہوں۔یہ جانتے ہوئے بھی اس سب میں تم کہیں قصور وار نہیں پھر بھی میں نے تم سے نفرت کی.۔آج میری انکھوں سے نفرت کی پٹی کھل چکی ہے.۔قصور تو تمھاری مما کا تھا. تو سزا تمھیں کیوں ملے۔اس کا بھی قصور نہیں تھا وردہ منہ کھولے اپنی ممانی کو دیکھ رہی تھی۔
بیٹی تیری ماں کی بھی کوئی غلطی نہیں تھی۔ شاید قسمت میں یہی لکھا ہوگا. مجھے معاف کر دینا. میں ساری زندگی نفرت کی پٹی آنکھوں پر چڑھائے تم کو قصوروار سمجھتی رہی۔ وہ انکھوں میں آنسو لیے ابھی بھی ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔ وردہ تڑپ کر آگے بڑھی. مامی پلیز آپ میری بڑی ہیں بالکل میری مما جیسی۔ آپ ایسا مت بولیں. یہ کہتے ہی اس نے مامی کو گلے لگا لیا۔ مامی نے بھی کھلے دل سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔یہ سارا معاملہ ماموں دروازے میں کھڑے دیکھ رہے تھے۔ ارے واہ یہ آج میں کیا دیکھ رہا ہوں کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا.. ماموں اپنی انکھیں ملتے ہوئے بولے۔نہیں آپ سچ دیکھ رہے ہو. مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے. میں غلط تھی اس سارے معاملے میں کہیں بھی تو میری  بیٹی کا قصور نہیں۔پھر بھی اسے سزا ملتی رہی  ۔ وہ اپنی انکھوں کی نمی چھپانے کے لیے سر جھکا گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شام ہو گئی ہے ابھی تک عاشر کیوں نہیں آیا. وہ انہی سوچوں میں گم کمرے میں ٹہل رہی تھی.. اس کی  چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجائی.. اسے لگا آج کچھ ہونے والا ہے. وہ انہی سوچوں میں گم کمرے سے باہر ٹی وی الاوئچ میں آ بیٹھی.. ابھی اسے بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی ہو گی.. کہ عامر کو گھر میں آتے دیکھا.. وہ فورن اٹھ کر اس کے پاس آئی. بھائی آج صبح سے عاشر بنک گیا ہے ابھی تک اس کا کہیں پتا نہیں سیل بھی آف جا رہا ہے اس کا. عامر کو اس کے چہرے پر پریشانی کی واضع لکیریں نظر آئیں . مجھے نہیں پتہ وہ نظریں چرا کر بولا۔ بھائی کیا اس نے آپ کو نہیں بتایا۔رودابہ کی پریشانی میں اور اضافہ ہوا۔ وہ رونے لگی۔ارے ارے آپ رو کیوں رہی ہیں رب خیر کرے گا۔ وہ کچن سے پانی کا گلاس لے کر آیا۔ اسے دیتے ہوئے  کن انکھیوں سے اسے دیکھا۔ آ آ  آپ پتہ تو کریں وہ اٹکتے ہوئے بولی۔ کیا پتہ کروں سچ یہ سن نہیں سکے گی اور جھوٹ میں بول نہیں سکتا. وہ اپنی ہی سوچوں میں گم ہو گیا۔بھائی کیا سوچنے لگے ہیں۔ آپ کھانا کھالیں میں دیکھتا ہوں۔ وہ اسے تسلی دینے والے انداز میں بولا۔مجھے بھوک نہیں بھائی آپ جائیں اس کا پتہ کریں۔ وہ منت سماجت کرنے لگی۔ اس کے باہر جاتے قدم ایک بار پھر رک گے.۔آپ روک کیوں گے بھائی. وہ دوڑ کر اس کے پاس آتے ہوئے بولی.. وہ جاتے ہوئے ایک بار پھر پلٹا.. چھوڑ دیا ہے اس نے آپ کو وہ چیخ کر بولا.. رودابہ نے تعجب سے اسے دیکھا.. یہ آپ کیا بول رہے ہیں ایسا نہیں ہو سکتا .. جو سچ ہے وہی بول رہا ہوں.. وہ اب بھی آنکھوں میں حیرت لیے اسے دیکھ رہی تھی.. یہ دیکھو اس نے ایک موڑا ہوا کاغذ اسے کی آنکھوں کے اگے لہرایا.. اس نے جلدی سے اس کے ہاتھوں سے وہ کاغذ جھپٹ لیا..اس کی ٹانگوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا. وہ کرسی پر گری اس کی ماتھے پر پیسنہ آنے لگا اس نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنا ماتھا صاف کیا.اس کی ٹانگیں ہولے ہولے کانپنے لگی اس نے وہ کاغذ کھولا . اس کا خط تھا. لکھا تھا. جان سے پیاری السلام علیکم.. میں تم کو چھوڑ کر جا رہا ہوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے . میں نے کبھی تم سے پیار کیا ہی نہیں.  میں تو صرف تمھارے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا. تم  نے نکاح کر لیا. میں ایسی عورت سے پیار کر ہی نہیں سکتا. جو کیسی کی خاطر اپنے خون کے رشتے توڑ دے.تم اتنی بے حس ہو سکتی ہو. میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا. تم نے تو سارے ریکارڈ توڑ دیے.. تم اپنوں کو کھو کر خوش رہ سکتی ہو پر میں نہیں کیونکہ میں تمھاری طرح نہ تو خود غرض ہوں. نہ بے حس. تم کیسی کی ہو نہیں سکتی. جس نے تم کو ساری زندگی پیار کیا تمھارے ماں باپ نے. تم نے دو پل کے پیار کے لیے ان کو چھوڑ دیا.. تم کیا کیسی کی بنو گی تم تو اپنے ماں باپ کی بھی نہ ہو سکی.. میں نے تمھیں جب پایا. تو بہت خوش تھا. پھر آہستہ آہستہ اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا..  مجھے اپنے ماں باپ خود سے بھی زیادہ عزیز ہیں. تم بھی جدت پسندی چھوڑ کر قدامت پسند بن جاو محفوظ رہو گی.. رودابہ کی انکھوں سے آنسو نکل کر کہیں نیچے گم ہو گے. اس نے سرعت سے اپنے آنسو پونچھ ڈالے.. اس کا دل چاہا وہ چیخ چیخ کر ساری دنیا کو بتائے کہ یہ سب فراڈ ہے دھوکہ ہے. تمھاری عزت نفس کی توہین ہے.. یہ سب خسارہ ہے. تمھارے ضمیر کا سودا ہے. چیخنا بھی کب چاہا. جب مہلت ہی نہ رہی جب زبان پر تالے آ پڑے.. وہ چیخ چیخ کر روتی رہی عامر کو چپ کروانا مشکل ہو گیا.. وہ اسے ڈاکڑ کے پاس لے گیا.. ڈاکٹر نے اسے نیند کا انجکشن دے کر سلا دیا..
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آنٹی پلیز اس پر رحم کریں.. علیزے نے جا کر وردہ کی ممانی کو سب کچھ بتا دیا.. یہاں تک بھی کہ وہ آپ کے بیٹے منیب کو پسند کرتی ہے.. پہلے تو ممانی شاک کی حالت میں بیٹھی اسے دیکھتی رہی. اس کا دماغ ماوف ہو چکا تھا.. پھر آہستہ آہستہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی. تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا.انٹی بے یقینی سے اسے دیکھ کر پوچھا. . انٹی میں ڈر گی تھی. کہیں آپ اس کو اس کی مما کی طرح سلفیش نہ سمجھیں.. کیا وردہ نے خود بولا ہے منیب کا.. ممانی  اب بھی بے یقینی سے اسے دیکھ ریی تھی.. جی آنٹی علیزے نے اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا.. میں مینب سے پوچھ لوں پھر باقاعدہ اعلان کروں گی.. علیزے نے اسی پل اپنا سر اٹھایاآنٹی کو دیکھا.. ممانی کے لبوں پر ہنسی تھی.. علیزے نے پل بھر کے لیے بے یقینی سے دیکھا.. ایسے کیا دیکھ رہی ہو. میں نے وردہ کو اپنی بیٹی مانا ہے. اور ماں باپ کا فرض بنتا ہے جہاں ان کی اولاد مانے وہی انکی شادی کرنی چایے.. آنٹی کیا آپ سچ کہہ رہی ہیں. علیزے نے اٹھ کر آنٹی کو گلے سے لگاتے ہوئے پوچھا.. ہاں بیٹی سچ بول رہی ہوں آنٹی نے بھی اسے گلے سے لگا کر جواب دیا.. آنٹی میں آپ کا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گی. اج آپ نے جو احسان مجھ پر کیا ہے میں ساری زندگی اس کی قیمت نہیں چکا سکتی.. ارے بیٹی اس میں احسان کی کیا بات ہے.. وہ میری بھی بیٹی ہے.. یہ تو اللہ کا شکر ہے وقت پر میری انکھیں کھل گی اللہ نہ کرے اگر اس منحوس کے ساتھ اسکی شادی ہو گئی ہوتی تو کیا کرتی میں.. وہ انکھوں میں اس کا تصور لے کر بولی.. اللہ نہ کرے آنٹی جو کبھی ایسا ہوتا.. چلو تم وردہ کو بتاو میں چائے بھجواتی ہوں وہ منیب کو کمرے سے نکلتا دیکھ کر ہاتھوں کے اشاروں سے روکتے ہوئے بولی.. جی آنٹی.. علیزے بھی اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گی.. جی مما آپ نے مجھے کیوں روکا منیب کمرے میں آتے ہوئے سامنے شیشے میں اپنا عکس دیکھ کر بولا.. ایک تو تم ہوا کے رخ پر سوار ہوتے ہو. انسان دو پل کے لیے ماں کے پاس آ کر بیٹھتا ہے. وہ کچھ جتانے والے انداز میں بولی.. شیشے کے سامنے کھڑے منیب کے  ماں کے انوکھے انداز پر کنگھی کرتے ہاتھ پل بھر کے لے روکے. پھر وہ انہی تیزی سے کنگھی کرنے لگا.. ارے مما آج خیر تو ہے وہ کنگھی ریک پر رکھ کر اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے ماں کے قریب آیا.. ہاں ہاں خیر ہے تو آ میرے پاس بیٹھ ماں نے بیڈ پر اس پاس جگہ بناتے ہوئے کہا.. وہ بیڈ کی پانتی پر ٹک سا گیا.. ارے میری جان ٹھیک ہو کے بیٹھ بات کچھ لمبی ہے.. ماں میں ٹھیک ہوں آپ بولو. وہ یہ بول کر اپنی پاکٹ سے موبائل نکل لیا.. وہ موبائل پر کوئی گیم کھیلنے لگا.. میں تھک گئی ہوں تیرے اس موئے فون سے جہاں بیٹھتا ہے یہ موایا تیرے ہاتھوں میں ہوتا ہے.. ماں اچھے بھلے غصے میں آ گی.. اماں بات کانوں سے سنی جاتی ہے ہاتھوں سے نہیں تو بول میں سن رہا ہوں.. اچھا تو یہ بتا تجھے وردہ کیسی لگتی ہے.. ماں نے اتنا بےساختہ پوچھا کہ وہ گڑبڑا گیا.. یہ کیسا سوال ہے اماں.. کچھ توقف کے بعد بولا.. وہ اس گھر کی بیٹی ہے اس ناطے مجھے اچھی لگتی ہے.. بیٹا اصل میں اسے اس گھر کی بہو بنانا چاہتی ہوں تیری اس بارے میں کیا رائے ہے.. اماں میں ابھی اس بارے میں نہیں سوچا.. اچھا تو سوچ لے مجھے کوئی جلدی نہیں.. تجھے تین دن کا ٹائم دیتی ہوں تو اچھی طرح سوچ لے. اتنا یاد رکھنا تجھے اس جیسا ہیرا کہیں نہیں ملے گا.. تو چاہے چراغ لے کے بھی ڈھونڈے تو بھی..
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں نیند میسر ہوتی ہے.. جو سرشام پرسکون نیند سو جاتے ہیں.. یقینن وہ دنیا کے خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں.. ورنہ انسان ننید کے لیے ترستی ایسی زندگی پر تو موت کو فوقیت دینے لگتا ہے.. اس نے بھی ایسی کئی راتیں تڑپ کر موت کو پکارتے ہوئے گزاری.. پر موت بھی تو وقت پر آتی ہے.. نہ اک لمحہ پہلے نہ ایک لمحہ بعد.. جو وقت متعین ہوتا یے اس سے پہلے کہاں آتی ہے.. وہ تڑپ تڑپ کر کبھی ماں کو پکارتی کبھی اللہ سے فریاد کرتی.. وہ تو اس اسے خوش خبری دینا چاہتی تھی.. اور وہ لوٹ کر ہی نہیں آیا.. جانے والے کب لوٹ کے آتے ہیں.. وہ آہستہ آہستہ زندگی کی طرف لوٹنے لگی.. اسے گے آٹھ ماہ ہو گے.. بھائی آخر میں کب تک آپ پر بوجھ بنوں گی.. میں ساری کشتیاں جلا کر آئی تھی. واپس پلٹنا میرے لیے ممکن نہیں.. میں جاب کرنا چاہتی ہوں.. اسے گے جب چھ ماہ ہوئے تب رودابہ نے ایک دن دھوپ سنکتے ہوئے عامر سے کہا.. ایک طرف مجھے بھائی بولتی ہو.. پھر بوجھ کا بھی کہتی ہو اگر آپکی جگہ میری اپنی کو ئی بہن ہوتی تو کیا اسے میں بوجھ سمجھتا.. عامر کے اس انداز پر رودابہ کی انکھوں میں آنسو آ گیے.. بھائی آپ بہت اچھے ہو اس سے الگ ہو.. وہ میرا دوست تھا بھی نہیں.. رودابہ کو شاک لگا.. مطلب بھائی.. آج میں سب کچھ بتاتا ہوں.. وہ میرا دوست نہیں تھا. کچھ عرصے پہلے میری اس سے ملاقات اک ریسٹورنٹ میں ہوئی. یہ کیسی لڑکی پر چیخ رہا تھا.. پھر وہ اسے تھپڑ مارتے ہوئے باہر چھوڑ آیا.. کچھ دن بعد یہ پھر کیسی اور لڑکی کے ساتھ تھا.. میں نے پوچھا وہ لڑکی کہاں ہے تو بولا. میرے کزن کی گرل فرینڈ تھی اس کے پاس چھوڑ آیا.. یہی سے ہماری دوستی کا آغاز ہوا.. یہ کہاں رہتا ہے مجھے نہیں پتہ. جسٹ اس کا نمبر میرے پاس تھا.. آج سے آٹھ ماہ پہلے ایک بار پھر اس نے کال کی کہ.. میں اپنی دوست سے شادی کرنا چاہتا ہوں یہ تمھارے گھر کچھ دن رہے گی اس کے بعد ہم اور گھر شفٹ ہو جایئں گے.. وہ آپ تھی.. وہ یہ سب بول کر نظر اٹھا کر اس کے چہرے پر ٹکادی.. اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگ دیکھ کر وہ پل بھر کے لیے بوکھلا اٹھا.. کیا ہوا تمیں۔۔ بھائی مجھے ڈاکڑ کے پاس لے چلو.. وہ جلدی سے ایمبولینس گاڑی میں ڈال کر اسے ڈاکٹر کے پاس لے آیا.. نرس اسے جلدی سے آئی سی یو میں لے گی.. وہ پورا دن بے ہوش رہی.. ایک ڈاکٹر آ رہا تھا دوسرا جا رہا تھا.. تبھی ایک ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر آیا. دیکھو اس لڑکی کو ہوش نہیں آ رہا اور آپریشن کرنا بھی ضروری ہے.. ان دونوں میں سے ایک کی جان بچا پائیں گے آپ فیصلہ کر لو. عامر کے لبوں سے بے اختیار نکلا. بچے کی جان بچانی ضروری ہے..
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آپریشن کے بعد بچی پیدا ہوئی.. آخری لمحوں میں رودابہ نے اپنے اس بھائی کو ایک چھوٹی سی وصیت کی تھی.. بھائی مجھے اس علاقے میں دفنا دینا اور میرے بچے کو میری امی ابو کے گھر دے دینا. بولنا ایک رودابہ چلی گی اس کو میرے جیسا مت بنانا.. یہ کہہ کر اس نے دنیا سے ہی منہ موڑ لیا.. وہ اس کے آخری رسومات ادا کر کے اس بچی کو اس کے ننھیال چھوڑنے جا رہا تھا.. رودابہ کے بابا فوت ہو گے تھے.. اس کے بھائی نے اپنی اس چھوٹی سی بھانجی کو لے کر اپنے پاس رکھ لیا.. پہلے تو کیسی نے یقین نہ کیا سب نے بولا یہ ناجائز ہے جب عامر نے نکاح نامہ  دیکھایا تو نہ چاہتے ہوئے بھی سب نے یقین کر لیا.. تب سے وہ اس گھر میں پلی بڑھی..
اماں مجھے کوئی اعتراض نہیں. منیب نے ایک دن ماں کی جھولی میں ایک چھوٹی سی خوشی ڈال کر سب کی دعائیں لی  وردہ کی شادی منیب سے طے کر دی گی
................





ختم شدہ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔