Saturday, April 11, 2020

Mehak Online Magazine April 2020

0 comments
ماہنامہ "مہک میگزین" (مہک زندگی کی) "سپر ریڈنگ میٹریل" کی جانب سے "آن لائن میگزین" جو کہ ہماری ویب سائیٹ (ناول ہی ناول) میں پبلش ہورہی ہے۔۔۔
"مہک آن لائن میگزین" "سپر ریڈنگ میٹریل" کی ریکوسٹ پر ہم اپنے ویب سائیٹ"ناول ہی ناول" پر پبلیش کر رہے ہیں۔۔
"مہک آن لائن میگزین" (بلاگ) کا آفیشل لنک:
MehakOnlineMagazine.blogspot.com
"سپر ریڈنگ میٹریل" (بلاگ) کا آفیشل لنک:
SuperReadingMaterial.blogspot.com
"مہک میگزین" بہترین تحریروں کی کارکردگی آپ سب کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔۔۔
جن میں شامل تحاریر:
*سایہ تیرے عشق دا از صائمہ مسلم
سلسلہ وار ناول (قسط نمبر 01)
*سائینسی تحقیق
*کچھ سبق آموز افسانے
*انمول موتی، غزل اور ریسیپیز
*ایک پیج بچوں کے نام بھی ہیں بچے پڑھیں سیکھیں اور سکھائیں۔۔
"مہک میگزین" (مہک زندگی کی)، (آن لائن میگزین) پڑھیں اور اور لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں۔۔۔
"مہک میگزین" پڑھنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پر کلک کرکے میگزین کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں۔۔۔

Friday, April 10, 2020

Sadaqat Digest April 2020

0 comments


ناول ہی ناول (ویب سائیٹ) لائی اپنا آن لائن ماہانہ.. “صداقت ڈائجسٹ” (سچ کی تلاش) جس میں کئی “قابلِ احترام رائٹرز” کے تحریر کردہ “حمد و ثناء، نعت رسول، رمضان کی اہمیت وفضیلت، مکمل ناولز، سلسلہ وار ناولز، انٹرویو، افسانے، آرٹیکلز، ریسیپیز، بیوٹی ٹپس، شعر و شاعری اور بہت سی تحریر جو آپ پڑھنا چاہتے ہیں۔۔۔
اور ہماری ٹاپ رائٹرز کے انٹرویو جس کی مہمان، صائمہ مسلم اور مشی شیخ ہیں۔۔ آپ سب کی فرمائش پر ان دو قابل تعریف رائٹرز کے ساتھ دلچسپ گفتگو۔۔۔
سلسہ وار ناول میں… (پہلی قسط)
*شدت عشق از ڈاکڑ پریشے ملک
*انتہا میرے پیار کی از زارا شبیر
*انجان رستوں کے مسافر از زنیرا انجم
مکمل ناولز میں…
*محبت نا مکمل سی از نمرہ نثار
*تم ہو میری چاہت از مریم دستگیر
ہر تحریر میں ایک نئی تحقیق، سوچ، سبق اور اصلاحی تعلیمات کا نچوڑ آپ کو پڑھنے ملے گا۔۔۔
بہترین لکھاری کے بہترین تحریر پڑھے اور چند الفاظ سے لکھاری کی حوصلہ افزائی کریں۔۔
آن لائن ماہانہ “صداقت ڈائجسٹ” کو پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئے پی ڈی ایف لنک پر کلک کریں اور آن لائن ڈائجسٹ کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں۔

Wednesday, April 8, 2020

چیخ کی آواز . فرا زاحمد

0 comments
مکمل شارٹ اسٹوری
چیخ کی آواز
جینڈر ۔ مسٹری ،ہارر
فرا زاحمد
بہت سے افراد سمجھتے ہیں کہ کسی بھی روح، جن، بھوت یا شیطانی روح کسی پر آسانی سے یا اس روح پر با آسانی قبضہ کی جا سکتا ہے، میں کیونکہ ماہر روحانیت ہوں اس لیے آئے دن میرا ایسے واقعات سے واسطہ پڑتا ہے، کہ جس میں کسی انسان پر کوئی بھوت قبضہ کرلے یا پھر انسان کسی روح یا جن کو اپنے قابو میں کر لے، مگر یہ سب اتنا آسان نہیں ، لیکن میں یہاں آپ کا وقت ضائع نہیں کروں گا ،بلکہ وہ واقعات بتاوں گا، جو پیش آتے رہے، کچھ کچھ میرا بھی یہ خیال ہے کہ اگر کوئی یہ کہہ کہے کہ اس پر شیطانی روح قابض ہو گئی ہے، کوئی نفسیاتی بیماری ہو سکتی ہے، یا کوئی ڈس آرڈر ہے، جیسا کہ ایک بار پیٹر نے مجھ سے کہا کہ اس نے آسمان سے فرشتوں کو زمین پر گرتے دیکھا ، یا کوئی شیطان نما بڑے بڑے پروں والا ، بھیانک چہرے والی کوئی چیز آسمان میں اڑتی دیکھی ، مگر یہ سب نفسیاتی یا دماغی بیماریاں ہو سکتی ہیں ، مگر ایک سال قبل میرے سامنے ایک ایسی عورت علاج کے لیے آئی جس نے مقدس پانی باتھ روم میں چھڑک دیا تھا، جس سے اس کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی ، اور وہ دیکھنے کے قابل نہ رہی، پھر ایلیسن میرے سامنے آیا ، جس نے چھ عورتوں کو ہلاک کیا تھا، اس کی وجہ اس کا ماضی تھا، جب اس کا باپ اس کی ماں پر تشدد کرتا اور وہ ڈر کے بیڈ کے نیچے چھپ جاتا، پھر وہ دن آیا جب اس کی ماں نے اس کے باپ کو خنجر کی مدد سے ہلاک کر دیا،، بعد میں اس پر گویا کوئی بھوت سوار ہو جاتا اور وہ لوگوں کی جان لینے میں خوشی محسوس کرتا، یہاں تک کہ اس کا دماغ اس قدر ڈسٹرب ہوتا رہا، جب اس کا دوست کار ایکسیڈنٹ میں جان بحق ہو گیا، وہ جادو پر یقین نہیں رکھتا تھا، مگر دوست کی موت کے وقت اس کالی چڑیل کو دیکھ سکتا تھا، جو اس کے دوست کے کار میں ہلاک ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی، ایلیسن کا دماغ اس قدر بگڑا کہ اسے اپنی مرحوم بہن بار بار نظر آنے لگی، کالا جادو کیا تھا ، ایلیسن نے اس سے قبل پوری طرح کوشش کی تھی کہ کالا جادو کی مد د سے کسی بھی طرح اپنی بہن کو پر سے دنیا میں لا سکے، ایلیسن نے کئی بار بار نفسیاتی وجہ سے یا پاگل پن ہونے کی وجہ سے مرحومہ بہن کو واپس اپنے جسم میں آنے کو کہا، مگر ایلیسن شاید اپنے آپے میں نہیں تھا ۔ ایلیسن جب میرے سامنے آیا ، اور میں نے اسے نارمل کرنے کی کوشش کی تو وہ عجیب انداز میں بول پڑا کہ میرے اندر ایک ایسی عورت کی روح آن گھسی ہے، جو پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئی تھی، میں نے یہ سن کر مزید تفصیل جاننی چاہی ، مگرایلیسن کے ہونٹ تھرتھرانے لگے اور اس کی آنکھیں اوپر کو چڑھ گئیں ، وہ انجانی آواز میں بولنے لگا، میں دیکھ رہی ہوں ، انہیں جو میرے پاس موجود ہیں ، شاید فرشتے ہیں یا پھر سفید لاءٹ کے لبادوں میں ملبوس لوگ، جو مجھے لینے آگئے ہیں ، میں ا ایلیسن کے موت کے آخری لمحات میں محسوس کر سکتا تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہا ، شاید اس میں واقعی کسی عورت کی روح موجود تھی، یہ انسانی فریب نہیں تھا، پھر میں نے ایلیسن کو پوری وقت لگا کر بستر سے اٹھتے ہوئے دیکھا ، اس کی آنکھوں کی پتلیاں غائب ہو چکی تھیں ، اور وہ زمین پر کھڑا تھا، اس نے بہت بھیانک انداز میں چیخ ماری، کہ میرا جسم خود کانپ اٹھا ، میں لرزتے لرزتے یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ ایلیسن کے اندر سے ایک عورت کا سایہ باہرآرہا تھا، ایلیسن اب بھی چیخ رہا تھا، جب کہ وہ سایہ اب ایک عورت کے روپ میں ایلیسن کے ساتھ کھڑا تھا، میں ڈاکٹر فرینک دیکھ سکتا تھا کہ سایہ اب عورت کی شکل اختیار کر گیا تھا اور اس کے جسم سے پانی اس طرح ٹپک رہا تھا کہ جیسے کسی پانی میں سے نکل کر آرہی ہو،میرے خود ہوش اڑے ہوئے تھے، ایلسین کا یہ روپ ، پھر اس عورت کا سامنے آنا ، میں شاید اپنے ہوش کھو بیٹھا تھا، میں ڈاکٹر فرنیک جو ماہر روحانیت تھا، نے کبھی زندگی میں ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر مجھے ایک جھٹکا سا لگا، مجھے اپنے دماغ میں شدید درد کا احساس ہوا، اور میرے اندر اسی عورت کی چیخ سنائی دینے لگی ، جو ایلیسن کے ساتھ کچھ دیر پہلے تک کھڑی تھی اور اب غائب ہو چکی تھی، میں اپنا سر دیوار پر مار رہا تھا، مگر چیخ کی آواز بہت زیادہ شدید تھی جومیرے دماغ میں تیز اور تیز تر ہوتی چلی جا رہی تھی ۔
ختم شدہ




Monday, April 6, 2020

یہ کیسی محبت ہے . مشی شیخ کےقلم سے

0 comments

یہ کیسی محبت ہے

یہ کیسی محبت ہے
از  مشی شیخ
وہ خاتون مسلسل تین دن سے میرے پاس آ رہی تھیں. عمر پچاس پچپن کے لگ بھگ ہو گی.
وہ روزانہ آ کر میرے سامنے بیٹھ جاتی.
ادھر ادھر دیواروں کو تکتی رہتی، کبھی میرے آفس کی سیٹنگ کو دلچسپی سے دیکھنے لگتی، کبھی میری طرف دیکھنے لگتی، ایسا لگتا کچھ پوچھنا چاہتی ہے، کچھ کہنا چاہتی ہے اور میں بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ منہ کھولے.
میں شہر کا ایک اچھا سائکاٹرسٹ.... اس خاتون کے آ جانے کے بعد اپنی ساری اپارٹمنٹ کینسل کر دیتا، جانتا تھا کہ اب وہ تین چار گھنٹے سے پہلے نہیں جانے والی.
جانے کیا تھا کہ میں بھی اسکی کہانی جاننے میں دلچسپی لینے لگا تھا، بہت شدت سے انتظار تھا کہ وہ کچھ کہے.
اج اسکی آنکھیں متورم سی تھیں.
اسے بیٹھے کوئی گھنٹہ بھر ہی ہوا تھا.
آپ میرا علاج کیوں نہیں کرتے.... مجھے تین دن ہو گئے ہیں آتے ہوئے... پر آپ ہیں کہ بس پینسل منہ میں دابے بیٹھے رہتے ہیں، کچھ کہتے ہی نہیں، جب میں تھک جاتی ہوں تو اٹھ کر چلی جاتی ہوں... آخر مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ،
کوثر تو آپ کی بہت تعریف کر رہی تھی پر مجھے تو آپ میں کچھ نظر نہیں آیا...
وہ خاتون پھٹ ہی پڑی تھیں، پہلے تو میں اس اچانک حملے سے گھبرا سا گیا تھا پر جلد ہی سنبھل گیا بلکہ خوش ہو گیا کہ وہ بول پڑیں تھیں اب جلد انکا مسئلہ بھی معلوم ہو جائے گا.
محترمہ آپ کچھ بتائیں گی تو ہی آپ کی مدد کر سکوں گا ناں،وہ میں نے شائستگی سے کہا.
اسکے چہرے پہ شرمندگی کے آثار نمودار ہوئے اور پھر یہ پریشانی میں بدل گئے...
کچھ دیر نامعلوم کشمکش میں رہنے کے بعد وہ جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی....
دیکھیے بیٹھ جائیے پلیز....
دکھ، تکالیف، پریشانیاں.... جتنی دل میں دبائیں گی، اتنی اذیت بڑھتی چلی جائے گی، اور آپ کی حالت ایسی نہیں کہ آپ مذید غموں کو پناہ دیں...
باہر نکال دیں.... سب کہہ ڈالیں.... اور پر سکون ہو جائیں...
میرے الفاظ اثر کر گئے، وہ بیٹھ گئیں.
کچھ دیر ایک ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے، کچھ سوچتیں رہیں...
میں رات کو سو نہیں سکتی.... آنکھیں بند کروں تو وہ مجھے نظر آتی ہے، سپاٹ چہرہ، خشک انکھیں لئے مجھے دیکھے چلی جاتی ہے، کچھ بھی نہیں کہتی، کوئی گلہ شکوہ، کوئی ملامت، لعن طعن.... کچھ بھی تو نہیں....
کچھ دنوں سے دن میں بھی دکھنے لگی ہے، کبھی کسی کمرے میں کبھی کسی کونے میں....
مجھ سے اسکی آنکھیں نہیں جھیلی جاتیں.... مجھے ان سے نجات دلا دیں.... اس نے التجا کی.
وہ..... کون ہے؟
میں نے مختصر سوال کیا.
وہ پھر تذبذب کا شکار ہوئی.
دیکھیں آپ سب کچھ کھل کر کہیں.... بلا خوف و خطر....
مجھے اپنا دوست سمجھیں، حقیقت جو بھی ہے جیسی بھی ہے مجھ سے کہہ ڈالیں، آپ کا راز کبھی فاش نہیں ہو گا.
میں نے اسے اعتماد میں لینے کی اپنی سی کوشش کی.
میں کہاں سے شروع کروں....
وہ بے بسی سے بولیں.
پہلے اپنا تھوڑا تعارف کروائیں، اپنی فیملی کے بارے میں کچھ بتائیں پھر وہ سب بتائیں جو آپ کسی سے نہیں کہہ سکتیں... میں نے انکی مشکل آسان کی.
میرا نام نگینہ سلیم ہے، میں اپنے شوہر سلیم شہزاد کے ہمراہ اک خوبصورت زندگی گزار رہی تھی ہمارا ایک بیٹا تھا حماد سلیم.....
پھر ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی، میرے شوہر کی اک حادثہ میں ٹانگیں ضائع ہو گئیں.
وہ اس معذوری کو کسی طور قبول نہیں کر پا رہے تھے، میں نے انہیں بہت سمجھایا پر ایک خوبرو جوان،چاک و چوبند، کامیاب انسان کے لیے یہ حالات قبول کرنا اتنا آسان نہیں تھا.... یہ معذوری انہیں چاٹ گئی.
وہ دو سال بعد مجھے تنہا چھوڑ گئے، اک چھ سالہ بیٹے کے ہمراہ...
اک بہت بڑی ذمہ داری کے ہمراہ....
میں نے اسے کیسے پالا، کیسے پڑھایا لکھایا قابل بنایا..... یہ اک بہت کٹھن سفر تھا، میں دو دو تین تین نوکریاں کرتی، اپنے بیٹے کو ہر آسائش دینا چاہتی تھی جو اسے باپ کے ہوتے میسر آنی تھی، میں اسے باپ کی کمی کسی طور نہیں ہونے دینا چاہتی تھی.
میں جوان تھی سو مجھے شادی کی آفر بھی ہوئیں، کئی بار میں کمزور بھی پڑی پر پھر اپنے بیٹے کے لئے خود کو مار ڈالا اور اسکے لئے جینے لگی. ساری دنیا سے منہ موڑ لیا، اور اسی کو اپنی کل کائنات مان لیا.
پھر ایک دن میری محنت اور قربانیاں رنگ لے آئیں، وہ پڑھ لکھ گیا، اسے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب مل گئی، تب میں نے جاب چھوڑ دی....
اب میرے آرام کے دن تھے، اور اب مجھے اپنے حصے کی زندگی جینی تھی... خوشیوں پہ آخر میرا بھی حق تھا.
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئیں.
وہ کون تھی... بے اختیار میرے منہ سے نکلا.
انہوں نے مجھے گھورا.... جیسے میرا سوال سخت ناگوار گزرا ہو....
میں شرمندہ سا ہوا.... پر اس سوال کو چھوڑ نہیں سکتا تھا... یہ اس کیس کا سب سے اہم سوال تھا.
پلیز..... بتائیے ناں... میں نے التجا کی.
ان کے تنے ہوئے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے.
میرا بیٹا کام کر رہا تھا، میں آرام.... اس نے میرے لیے ایک ملازمہ بھی رکھ دی تھی.
میں بہت خوش تھی، خاندان میں آس پاس نظر دوڑا رہی تھی، کسی اچھی لڑکی کی تلاش تھی.
ملازمہ سے بھی پوچھا کہ تم بھی تو اتنے گھروں میں کام کرتی رہی ہو... کوئی اچھی لڑکی اچھا خاندان نظر میں ہے؟
وہ بھی غور و فکر کرنے لگی.
ایک دن میرا بیٹا آفس سے واپسی پہ میرے پاس بیٹھا ادھر ادھر کی باتیں کر رہا تھا کہ اچانک سے کہنے لگا، اماں آپ کو نہیں لگتا اب میری شادی ہو جانی چاہیے.
یہ سوال اچانک تھا، میں مسکرا دی...
ماں ہوں تمہاری.... تم سے بہت پہلے مجھے یہ خیال آ گیا تھا.
دیکھ رہی ہوں ادھر ادھر... جیسے ہی کوئی گوہر نایاب ملا تمہیں گھوڑی چڑھا دوں گی، میں نے اسکے گال تھپتھپا ئے...
وہ ہنوز سیریس سا تھا....
اماں میں آپ سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت نہیں....
میں لڑکی دیکھ چکا ہوں.... بس آپ رشتہ مانگنے کی تیاری کریں.
وہ کہہ کر جانے لگا.
کون ہے وہ....؟ میں نے بمشکل پوچھا. مجھے بہت زبردست شاک لگا تھا.
یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھتی رہی ہے. اب آفس میں بھی میرے ساتھ ہے....
اس نے سینے پہ ہاتھ باندھے بتایا.
بیٹا میں تمہارے لیے اک گھریلو لڑکی چاہتی ہوں. یہ نوکری کرنے والی لڑکیاں گھر نہیں سنبھال سکتیں.
اماں وہ ایک بہت اچھی اور گھر گرہستن لڑکی ہے، جاب تو بس ٹائم پاس ہے شادی کے بعد جاب نہیں کرے گی. گھر دیکھے گی آپ کی خدمت کرے گی.... آپ اس سے ملیں گی تو آپ کے سارے خدشات دور ہو جائیں گے.
اس نے مسکرا کر میری پیشانی پہ بھوسہ دیا اور چلتا بنا.
میں جانے کب تک اسکی پشت کو گھورتی رہی.....
کچھ وسوسے کچھ وہم.... میرے اندر کچوکے لگانے لگے....
میں اپنے بیٹے کو خود سے دور جاتا دیکھ رہی تھی، مجھے خوف ستانے لگا تھا وہ بہت جلد مجھ سے بہت دور ہو جائے گا، وہ لڑکی اسے مجھ سے چھین لے گی، مجھ سے میری عمر بھر کی کمائی چھین لے گی.
میں اپنے بیٹے کو ڈانٹ ڈپٹ کر، دھمکیاں دے کر اس لڑکی سے باز رکھنا چاہتی تھی پر میں نے سوچا... کچھ ایسا کیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے.
میں اگلے روز بہت دھوم دھام سے اسکا رشتہ لے کر اس لڑکی کے گھر جا پہنچی.
ساتھ میں ڈھیروں مٹھائی اور گفٹ تھے.
بہت پیار سے میں نے رشتہ مانگا. میری محبت اور دکھاوے سے بھر پور خلوص دیکھتے ہوئے فورا ہی ہاں کر دی گئی.
میرے بیٹے کی خوشی دیکھنے لائق تھی. وہ میرا مشکور تھا کہ میں نے اسکی دل کی بات بلا تردد سمجھ اور مان لی، میں مسکرا رہی تھی اور اسے پیار کر رہی تھی پر دل فکروں کے سمندر میں ڈبکیاں کھا رہا تھا.
من کی مراد پا کر وہ مجھے بھول نہ جائے، وہ لڑکی اسے مجھ سے دور نہ کر دے، اپنے پیار کا حسین جال بچھا کر... نہیں ہر گز نہیں... اس سے پہلے کہ وہ میرے بیٹے کو مجھ سے دور کرے میں اپنے بیٹے کو اس سے ہی دور کر دوں گی... ہاں میں ایسا ہی کروں گی اور ایسا کرنا میرے لیے جائز ہے، کون ماں اپنا بیٹا کھونا چاہتی ہے.... کوئی نہیں، کوئی بھی نہیں.؛.
میں نے دل ہی دل میں آگے کا لائحہ عمل تیار کیا.
میں نے اسکی بری بہت خوبصورت اور مہنگی تیار کی، اپنے بیٹے کو دکھانا بھی تو تھا کہ میں کتنی خوش ہوں.
جلد ہی وہ بیاہ کر ہمارے گھر آ گئی.
اب اگلہ مرحلہ ہنی مون پہ جانے کا تھا، مجھے پتہ تھا کہ میرے بیٹے کی چھٹیاں زیادہ نہیں ہیں وہ جلد از جلد جانا چاہے گا.
میں نے اگلے روز ناشتے کی میز پہ ہی قصہ چھیڑ دیا.
دیکھو حماد، تم تو جانتے ہو میں نے تمہاری خاطر ساری زندگی تنہا گزار دی. اب میرا حوصلہ نہیں پڑے گا تمہیں تنہا ہنی مون پہ جانے دینے کا، میری جان سولی پہ لٹکی رہے گی.
میں تو کہوں گی ایسا کوئی پروگرام نہ بنانا، لیکن اگر بنانا ہی ہے تو مجھے ساتھ لے کر جانا، میں تنہا کیسے رہوں گی، میں نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا.
میرا تیر نشانے پہ لگا....
میری بات سن کر وہ اپنا ناشتہ بھول گئی اور حیرت سے میرا منہ تکنے لگی... بولی کچھ نہیں پر نگاہیں پر شکوہ تھیں. مجھے پرواہ نہ تھی.
میرا بیٹا اپنی جگہ سے اٹھا اور آ کر میری پیشانی چوم لی، آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں آپ کو تنہا چھوڑ کر جاؤں گا.
آپ ہمارے ساتھ جائیں گی.
میں مسکرا دی.
رات ولیمے کا فنکشن تھا. اگلے روز ہی نکلنے کا پروگرام رکھا گیا.
رات میں نے بیٹے کو اپنے کمرے میں بلایا.
ناک سے سوں سوں کرنے لگی جیسے کافی دیر سے رو رہی ہوں، آنکھوں کو بھی مل کر ذرا لال کر لیا.
کیا ہوا اماں جان... وہ تڑپ اٹھا.
بیٹا میرا خیال ہے تم اکیلے ہی چلے جاؤ صبح...، میں نہیں جا رہی، میں سکینہ کو اپنے پاس روک لوں گی، میں رہ لوں گی تم میری فکر مت کرنا.... میں نے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا.
ہوا کیا ہے، آخر پتہ بھی تو چلے... وہ پریشان لہجے میں بولا.
بہو کو میرا تم لوگوں کے ساتھ جانا اچھا نہیں لگا.
وہ آج سارا دن میرے ساتھ منہ پھلائے رہی ہے سیدھی طرح بات بھی نہیں کی.
میں تم دونوں کو خوش دیکھنا چاہتی ہوں، میری کل کائنات تم دونوں ہی تو ہو.....
بس تم دونوں چلے جاؤ.... بس میں نے کہہ دیا، میں نہیں جا رہی کباب میں ہڈی بننے.....
کہہ کر میں نے منہ موڑ لیا.
بیٹے نے کچھ کہا نہیں بس اٹھ کر چلا گیا، پر اسکے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے تھے....
میں جو چاہتی تھی وہ ہو گیا، میں دل ہی دل میں مسکرا دی.
صبح میری بہو فجر کی نماز کے بعد میرے پاس چلی آئی، آنٹی آپ ہمارے ساتھ نہیں جائیں گی تو میں بھی نہیں جاؤں گی... آپ یقین کریں مجھے بہت خوشی ہو گی کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں، پلیز اب جلدی سے تیاری کر لیں بلکہ مجھے بتائیں آپ کی کون کونسی چیزیں رکھنی ہیں....
میں موڈ دکھانا چاہتی تھی اسے تھوڑا ذلیل کرنا چاہتی تھی پر میری نظر میرے بیٹے پہ پڑ گئی جو کہ دروازے کی اوٹ میں کھڑا تھا.
میں نے بہو کی پیشانی چومی.... میں بالکل تمہیں اپنی بیٹی سمجھتی ہوں، تمہارے آ جانے سے میری زندگی میں بیٹی کی کمی پوری ہو گئی ہے. اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے.
آخری جملہ میں نے دل پہ پتھر رکھ کر کہا.
تیاری کر کے ہم نکل پڑے، ناشتہ راستے میں اک ریسٹورنٹ سے کیا.
وہاں بھی میں ہر وقت ان دونوں کے بیچ رہی، جیسے ہی مجھے لگتا کہ بیٹے نے بہو کو زیادہ وقت دیا میں رونے لگ جاتی....
ایک دن بہو نے کہا میری طبیعت ٹھیک نہیں سر میں درد ہے میں تھوڑی دیر سونا چاہوں گی، حماد آپ آنٹی کے ساتھ گھومنے چلیں جائیں.....
بس مجھے بیٹے کے کان بھرنے کا موقع مل گیا.
میں بیٹے کے ساتھ باہر آ گئی اور زار زار رونا شروع کر دیا.
تم نے دیکھا اسکا رویہ.... میں جتنا اسے اپنے ساتھ لگانا چاہتی ہوں وہ اتنا ہی غیریت برت رہی ہے.
وہ میرے ساتھ گھومنا پھرنا نہیں چاہتی تو سیدھی طرح صاف صاف کہہ دے بڑھیا گھر رہو.... یوں بہانے کرنے اور موڈ دکھانے کی کیا ضرورت ہے.
اب اسے پتہ تھا کہ آج میرا جھیل سیف الملوک دیکھنے کا من کر رہا.
سر درد کا بہانہ بنا دیا.
بیٹا تم مجھے واپس بھیج دو... میں چلی جاؤں گی، خوامخواہ میری وجہ سے تمہارا ٹرپ بھی خراب ہو رہا.
میں نے آنسو صاف کر کے کہا.
نہیں اماں وہ ایسی لڑکی نہیں ہے واقعی اسکے سر میں درد ہے.... میں اسے جانتا ہوں....
وہ صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا پر میں نے ایک نہ سنی.
ہوٹل پہنچ کر میں نے بہو کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا کہ تمہارے سر میں درد ہے، لو کھانا کھا لو اور آرام کر لو...
میں پھر کمرے سے نکل آئی، یہ کہہ کر کہ باہر تھوڑی دیر چہل قدمی کرنا چاہتی ہوں...
میں نے اپنے پیچھے اپنے بیٹے کے چیخنے کہ آوازیں سنیں.... میرا من اندر تک سرشار ہو گیا.
میرا رب مجھ پہ کتنا مہربان تھا، سب کچھ میری مرضی کے مطابق ہو رہا تھا.
اگلے کچھ دیر بس لئے دیئے انداز میں گزار کر ہم گھر واپس آ گئے.
حماد آفس جانے لگا. اور بہو گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی کوشش کرنے لگی، میں تو اب کوئی کام کرتی نہ تھی کہ ماسی سے ہی سارے کام کروا لیتی تھی، اب بہو ماسی کے ساتھ لگ کر گھر کی دیکھ بھال کی کوشش کرنے لگی.
میں اسے کام کرنے سے روک دیتی، اسکی پیشانی چومتی اور کہتی، میں چاہتی ہوں حماد گھر آئے تو تم اسے بالکل فریش ملو، ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں تمہاری شادی کو... جاؤ جا کر آرام کرو... اتنے خوبصورت ہاتھ خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتی میں اسکے ہاتھوں کو چوم کر کہتی.... وہ لجا جاتی اور سر ہلا کر کمرے میں چلی جاتی.
جوان خون تھا کچھ شادی کے اوائل یوم تھے وہ سوتی تو کئی کئی گھنٹے سوئی رہتی. اور میں چاہتی بھی تو یہی تھی.
رات کھانے کی میز پہ میں حماد کو بتاتی کہ یہ ڈش میں نے بنائی ہے، یہ ماسی نے بنائی ہے....
وہ دلہن سے پوچھتا تم نے کیا بنایا ہے، وہ منمنا کر رہ جاتی، تب حماد اسے مایوس نگاہوں سے دیکھتا اور مجھے سے مارے شرمندگی کے آنکھیں نہ ملا پاتا.
میں فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجائے ڈش بہو کی طرف بڑھاتی لو تم یہ بھی چکھو....
میں نے ایک دن اپنے کمرے کی چیزیں بکھیر دیتی، گندے کپڑے بیڈ پہ ڈھیر کر دیے جب حماد کے گھر آنے کا وقت ہونے والا تھا. بہو کمرے میں تیار ہو رہی تھی، اسکے آنے سے پہلے وہ تیار ہو جایا کرتی تھی.
وہ گھر آیا تو مجھ سے ملنے میرے کمرے میں چلا آیا، کمرے کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا.
یہ سب کیا ہے....
بس بیٹا چیزیں سمیٹ رہی تھی الماری صاف کی ہے تو تھک کر چور ہو کر گر پڑی ہوں اب یہ سمیٹنے کی ہمت نہیں کر پا رہی، ماسی بھی آج جلدی چلی گئی ہے.
میں نے تھکے لہجے میں کہا.
وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا.
تمہیں ان چونچلوں سے فرصت نہیں وہاں اماں جان کی طبیعت خراب ہو رہی ہے کام کر کر کے، سارا کمرہ بکھرا پڑا ہے..... کم از کم ان کا ہی تھوڑا دھیان کر لیا کرو.....
بیٹے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی.
ابھی انکے کمرے سے ہی آئی ہوں، سب کچھ ٹھیک تھا.... بہو نے صفائی دینے کی کوشش کی.
میرے چہرے پہ اک رنگ آیا، اک گیا.
تو کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں یا میری ماں جھوٹی ہے، حماد دھاڑا تھا.
میرے چہرے پہ مسکرا دوڑنے لگی.
بہو میرے کمرے میں آئی، اماں جان کیوں کرتی ہیں آپ اتنے کام، مجھ سے کہہ دیا ہوتا.... اس نے میری چیزیں سمیٹنی شروع کر دیں، آواز میں نمی صاف محسوس ہو رہی تھی جو کہ میرے دل پہ کسی پھوار کہ مانند پڑی.
حماد کا فون آتا کہ میں گھر دیر سے آؤں گا. تو میں اسے سونے کے لیے زبردستی بھیج دیتی، بیٹی تم سو جاؤ، وہ نالائق تو جانے کب تک آئے, پہلے انکار کرتی پھر میرے اصرار پہ چلی جاتی... رات جب وہ لوٹتا اور مجھے تنہا جاگتے دیکھتا تو اسکا دل بیوی کی طرف سے کھٹا ہوتا، مجھے بہت خوشی ہوتی.
ایک دن حماد کو دیر سے آنا تھا میں نے بہو کو زبردستی سلا دیا.
مجھے باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی، حماد کے پاس چابی ہوتی تھی وہ خود ہی اندر آ جایا کرتا تھا، میں نے زور زور سے سانس لینے شروع کر دئیے اور گرتی پڑتی کچن کی طرف چلی.... پانی کا گلاس ہاتھ میں لے کر جھوٹ موٹ گرنے لگی تو حماد نے آ کر مجھے سہارا دیا. صوفے پہ بیٹھایا پانی پلایا. پھر غصے میں کمرے کی طرف بڑھ گیا.
صبح وہ باہر آئی تو آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، شاید رات بھر روتی رہی تھی. ،کیا ہوا بیٹی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں... میں نے بظاہر بہت فکرمندی سے پوچھا.
جی... وہ نظریں ملائے بنا کہہ کر کچن کی طرف بڑھ گئی.
تم نے کچھ کہا اسے، پیچھے سے آتے حماد کو سرزش کی.
وہ نظریں جھکا گیا.
تھوڑی دیر میں ناشتہ میز پہ رکھ دیا گیا.
وہ بھی آ کر بیٹھ گئی.
آج کے بعد تم نے اسے کچھ کہا تو اچھا نہیں ہو گا، سمجھے.... میں نے حماد کو وارننگ دی.
اور بہو کو سینے سے لگا کر پیار کرنے لگی.
آئی ایم سوری... آنٹی.... وہ بلک پڑی.
نا میری جان، تمہارا کیا قصور.... میں نے اسکی پیشانی چوم ڈالی.
جہاں میں اسے حماد کی نگاہوں میں گرانے کی کوشش کر رہی تھی وہیں میں اسے بھی تنگ کرنے لگی تھی کہ شاید خود ہی گھر چھوڑ کر چلی جائے.
آدھی رات کو انکے کمرے کا دروازہ بری طرح پیٹ ڈالتی، کبھی عشا کے بعد طبیعت خراب کر لیتی اور حماد پھر ساری رات میرے سرہانے گزار دیتا....
پر وہ جانے کس مٹی کی بنی ہوئی تھی یا شاید وہ حماد سے بہت پیار کرتی تھی سو سب سہہ جاتی رہی.
وہ میکے جاتی تو میں حماد سے گلہ کرتی کہ میں اسے بالکل اک بیٹی کی طرح چاہتی ہوں پر وہ شاید مجھے ماں نہیں بنا پا رہی، سارا دن کمرے میں پڑی رہتی ہے، میرے ساتھ بالکل وقت نہیں گزارتی....
دیکھو میں تم دونوں کا گھر خراب نہیں کرنا چاہتی سو اب تک خاموش تھی پر میں بھی انسان ہوں، تنہائی سے گھبرا گئی ہوں.... بہو آئی تھی تو سوچا تھا اک ساتھی مل گیا پر مجھے تو اب بھی دل کا حال در و دیوار سے ہی کہنا پڑتا ہے.... میں بلک پڑی.
حماد اتنا غصہ ہوتا کہ بہو کو فون کرنا چھوڑ دیتا . بلکہ اسکا بھی اٹینڈ کرنا چھوڑ دیتا .وہ میسج کرتی کہ آ کر لے جاؤ.
حماد جواب دینا تک گوارا نہ کرتا.
آخر وہ خود ہی چلی آتی.
رفتہ رفتہ اس نے جانا ہی چھوڑ دیا.
میں ہر ماہ اسے کھجوروں کا قہوہ پلا دیتی... میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ ماں بنے.... وہ ماہ بن گئی تو حماد کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی.
وہ شکوہ کرتی کہ اسے یہ پسند نہیں، میں پیار محبت سے اسکے فائدے گنوا کر پلا ہی دیتی.
پر اللہ کے آگے کس کی چلتی ہے، شادی کے سال بعد وہ امید سے ہو ہی گئی، میرے تو جیسے پیروں تلے زمین نکل گئی.
حماد اب اسکا بہت خیال کرنے لگا تھا اس نے ایک کام والی مزید رکھ دی. اسکا غصہ، س سب ہوا ہو چکا تھا. سب گلے شکوے اپنی موت آپ مر گئے.
کھانے کی میز پہ وہ ہر ہر چیز اسے زبردستی کھلاتا، وہ ناز نخرے اٹھواتی اور میرا کلیجہ جلاتی.
میں دن رات انگاروں پہ کٹنے لگے.
بظاہر میں بھی اسکا بہت خیال رکھتی اسے کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتی.
یونہی کئی ماہ گزر گئے.
ایک دن میں کچن میں گئی تو مجھے گیس کی بو آئی، میں نے چیک کیا تو اک برنر کی گیس تھوڑی کھلی ہوئی تھی.
میں نے جلدی سے بند کر دی اور ایگزاس فین چلا کر کچھ دیر کو باہر نکل آئی. اس لمحے اک شیطانی خیال میرے ذہن میں کوندا اور میں مسکرا دی.
اگلے روز ایک کام والی چھٹی پہ تھی، اپنی سوچ کو آج ہی عملی جامہ پہنانے کا خیال آیا، سو میں نے دوسری کو کپڑے دھونے کے لیے چھت پہ بھیج دیا.
کچن میں گئی گیس کھول آئی.
پھر بہو کے کمرے میں گئی، سر پہ پٹی بندی ہوئی تھی... کیا ہوا آنٹی وہ اٹھ بیٹھی.
بس بیٹا سر میں بہت شدید درد ہے، لگتا ہے الٹیاں شروع ہونے والی ہیں،مجھے ایک کپ چائے بنا دو...میں نے ہائے ہائے کرتے بات مکمل کی.
رضیہ.... رضیہ.... بہو نے کام والی کو آواز دی.
بیٹا وہ چھت پہ کپڑے دھو رہی ہے، میں تمہارے پاس نہ آتی، مجھے تم سے اس حالت میں کام کروانا اچھا نہیں لگ رہا پر طبعت بہت خراب ہو رہی ہے....
کوئی بات نہیں آنٹی آپ یہاں لیٹ جائیں میں آپ کے لیے چائے لے کر آتی ہوں.
وہ مجھے اپنے بستر پہ لٹا کر کچن کی طرف بڑھ گئی، اس لمحے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، دل چاہا اسے روک لوں پر حسد نے مجھے اندھا کر دیا، بے حس کر ڈالا.
میں نے ایک تکیہ سر کے نیچے رکھا دوسرا اوپر اور آنکھیں کان دونوں بند کر لیں، سوتی بن گئی.
آنکھیں تب کھولیں جب روتی ہوتی رضیہ نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھایا.... اٹھو بیگم صاحبہ... لٹ گیا سب لٹ گیا قیامت آ گئی ہے.... وہ جانے کیا کیا بولے جا رہی تھی، میں غائب دماغی سے اسے دیکھے جا رہی تھی.
بہو کو ہسپتال لے جایا گیا، میں گھر پہ ہی رہی....
وہ مری نہ بھی تو خود میرے بیٹے کے لائق نہیں رہی... نہ ہی اسکا بچہ بچے گا، میں نے سنگدلی سے سوچا.
اگلے چند گھنٹوں میں ڈیڈ باڈی گھر پہنچ گئی. محلے والے، پولیس اور میرا بیٹا آ چکے تھے. میں اب بھی گنگ سب کچھ پتھرائی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی، محلے کی عورتیں مجھے دلاسے تسلیاں دے رہی تھیں اور کچھ رلانے کہ کوشش کر رہی تھیں.
انکے نقطہ نظر میں نے بہو کا صدمہ دل و دماغ پہ لے لیا ہے، یہ میرے لیے ٹھیک نہیں....
پولیس مجھ سے بات کرنا چاہتی تھی پر میں نے اپنی حالت ایسی بنا رکھی تھی کہ انہیں واپس لوٹنا پڑا، محلے والوں نے احتجاج کیا کہ وہ اس قابل نہیں کہ ان سے کوئی سوال جواب کیا جائے.
میرا بیٹا نڈھال سا کام نمٹا رہا تھا اور خاموش آنسو بہائے جا رہا تھا. وہ میرے پاس نہیں آیا، مجھے کوئی تسلی دی نا دلاسہ....
بعد میں لوگوں کی باتوں سے پتہ چلا کہ مرتے مرتے بہو کہہ گئی کہ اس حادثے میں اسکے سسرال کا کوئی ہاتھ نہیں.....
جسے میں نے مارا، وہ مجھے بری الذمہ کر گئی تھی.
دن مہینے اور پھر ایک سال بیت گیا .
وہ مجھے کئی بار دکھائی دی، کئی بار خواب میں آئی.... پر میں اسے اپنا وہم کہہ کر جھٹلا دیتی رہی.
گھر میں آج بھی سوگواری کا سا ماحول تھا، بیٹے کو چپ ہی لگ گئی تھی، وہ سلام سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا میں باتیں کرتی رہتی وہ دیواروں کو گھورتا رہتا.
میں تمہاری شادی کرنا چاہتی ہوں..... دیکھو اب اسکا سوگ کب تک مناؤ گے... آگے بڑھو اور اپنی زندگی جینا شروع کرو، جانے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا.....
میں ایک دن کہہ ہی بیٹھی.
ایک کو مار کر دل بھرا نہیں آپ کا، اور کتنوں کی جان لیں گی.... سوری مجھ میں تو کسی معصوم کی زندگی تباہ کرنے کا حوصلہ نہیں.... وہ کہہ کر رکا نہیں.
مرے جسم سے جیسے کسی نے سارا خون نچوڑ لیا ہو.... میرا بیٹا میری اصلیت جانتا تھا، یہ حقیقت مجھ پہ پہاڑ بن کر ٹوٹی.....
وہ ساری رات میں نے روتے ہوئے کاٹی، سوچ لیا تھا کہ صبح بیٹے کے قدموں میں گر کر بھی معافی مانگنی پڑی تو مانگ لوں گی...
پر اس نے موقع ہی نہیں دیا، وہ مجھے ملا ہی نہیں، وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا.... کہاں گیا معلوم نہیں، میں نے اسکے دوستوں اور جہاں جہاں جس جس کو جانتی تھی پوچھا پر کسی کو علم نہ تھا.
وہ آج زندہ بھی ہے کہ نہیں مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں.......
اس عورت کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا.مجھے اس پہ ترس بھی آ رہا تھا اور غصہ بھی..... وہ اتنی ظالم اتنی سنگدل کیسے ہو سکتی تھی......
وہ مجھے اب ہر وقت دکھائی دیتی ہے، مجھے خوف آنے لگا ہے ان آنکھوں سے.... پلیز ڈاکٹر صاحب اسے کہیں مجھے نہ دیکھے... چلی جائے، اسے کہیں جو کہنا ہے کہہ دے، مجھ جو سزا دینی ہے دے دے..... پر یوں خاموشی کی مار نہ مارے....
وہ دیکھیں ڈاکٹر صاحب وہ پھر آ گئی ہے..... دیکھیں آج اسکی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے......
وہ آ رہی ہے.... میرے قریب آ رہی ہے...... روکو اسے روکو..... مجھے ڈر لگ رہا ہے.....
ساتھ ہی اسکی آنکھیں پتھرا گئیں، اور سر اک طرف ڈھلک گیا.......
مجھے اس سے بہت سے سوال کرنے تھے پر موقع ہی نہیں ملا....
مجھے پوچھنا تھا کہ بقول اسکے وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتی تھی اور یہ سب اس نے اسکی محبت میں ہی کیا......
کیا یہ محبت تھی، یہ کیسی محبت تھی..... کیا اسے محبت کہنا جائز ہے؟؟؟؟ ؟؟
خدارا.... کچھ تو ہوش کے ناخن لو..... یہ ساس بہو کا رشتہ اتنا برا نہیں جتنا سمجھ لیا گیا ہے، تھوڑا دل بڑا کرنے کی ضرورت ہے.... جسے آپ گھر میں بہو بنا کر لائی ہو اسے کچھ جگہ بھی دو کچھ مقام بھی دو، آخر وہ اب گھر کی اک فرد ہے..... اگر اسکا وجود برداشت نہیں ہو رہا تو کچھ اور تدبیر کرلو، نہ کہ اسے جان سے مار دیا جائے....آپ کو بیٹا عزیز ہے تو وہ بھی کسی کی اولاد ہے کسی کے دل کا ٹکڑا ہے.....







ختم شدہ